اردن کا شام میں فضائی حملہ، 20 سے زائد داعش جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعوی؛ دمشق کے مطابق سات افراد ہلاک

اردن کا کہنا ہے کہ جنوبی شام میں اس کے فضائی حملوں میں 20 سے زائد داعش جنگجو ہلاک ہوئے؛ شام کے مطابق سات افراد ہلاک ہوئے جن میں تین بچے شامل ہیں۔

اردن نے منگل کو کہا ہے کہ اس نے گزشتہ شام جنوبی شام میں فضائی حملوں میں 20 سے زائد داعش جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ اردن کے مطابق یہ حملے گزشتہ ہفتے اردن میں ایک چرچ پر ہونے والے مہلک حملے کے جواب میں کیے گئے، جس کے ملزمان کا تعلق سرحد پار شام میں موجود عسکری گروپوں سے جوڑا گیا ہے۔

اردن نے پیر کو کہا تھا کہ اس کی فضائیہ نے جنوبی شام میں عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، کیونکہ چرچ حملے کے ملزمان کا تعلق وہاں موجود دہشت گرد گروپوں سے تھا۔ چرچ حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے، تاہم اردن کا کہنا ہے کہ شام میں نشانہ بنائے گئے عسکریت پسند داعش کے ارکان تھے۔

شام میں سات افراد ہلاک، جن میں تین بچے شامل ہیں

شام کے مطابق حملوں میں سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین بچے، تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ درعا کے محکمہ صحت کے سربراہ خالد العمیان نے سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کو بتایا کہ تین دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں اور امدادی ٹیمیں مزید متاثرین کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اردن کے وزیر برائے حکومتی رابطہ محمد المومنی نے ایکس پر اپنے پیغام میں شہری ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔

اردن کے سیکیورٹی حکام نے الگ سے بتایا کہ چرچ حملے سے منسلک فائرنگ کے واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے دو بھائیوں اور ان کے بہنوئی کو گرفتار کیا ہے۔ چرچ حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہم آہنگی پر اختلاف

ان حملوں نے شام میں غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ اردن کی فوج کا کہنا ہے کہ حملے دمشق کے ساتھ ہم آہنگی سے کیے گئے، جبکہ شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ حملے بغیر پیشگی ہم آہنگی کے کیے گئے اور اس نے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے اردنی حملوں کو ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ دمشق عمان کے ساتھ رابطے میں ہے اور سرحدی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے ایک مشترکہ سیکیورٹی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

شام کی بندرگاہوں اور کسٹم کی جنرل اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اردن کے ساتھ نصیب سرحدی گزرگاہ منگل کو بند رہے گی، جس کی وجہ سیکیورٹی صورتحال اور درعا میں جاری پیش رفت بتائی گئی ہے۔

ذرائع: رائٹرز؛ شنہوا؛ اردن کے حکومتی بیانات۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں