اردن کے جنوبی شام پر فضائی حملوں میں سات افراد ہلاک، شام نے نصیب سرحدی گزرگاہ بند کر دی

بند صحرائی سرحدی گزرگاہ پر رکے ہوئے ٹرکوں اور دور آسمان میں طیاروں کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

عمان — شام نے منگل کو اردن کے ساتھ نصیب سرحدی گزرگاہ بند کر دی، یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب اردنی جنگی طیاروں نے جنوبی شام میں ان ٹھکانوں پر حملے کیے جنہیں عمان نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے قرار دیا۔ رائٹرز کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ ہفتے اردن کے صوبہ کرک میں ایک گرجا گھر کے جنازے پر ہونے والے مہلک حملے کے جواب میں کی گئی۔

شامی سول ڈیفنس نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا کہ اردنی حملوں میں تین بچوں اور ایک خاتون سمیت سات افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ اس کے مطابق اس کی ٹیمیں درعا اور سویدا صوبوں کے دیہی علاقوں میں چار مقامات پر پہنچیں۔ اس سے پہلے ایک شامی صحت اہلکار نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ خواتین اور بچوں سمیت پانچ شہری ہلاک ہوئے، یہ ابتدائی تعداد تھی جو امدادی کام جاری رہنے کے دوران سول ڈیفنس کے اعداد و شمار سے مختلف تھی۔ شام کی وزارت دفاع نے کہا کہ ایک حملے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد نشانہ بنے جبکہ دو دیگر حملوں میں ایک 60 سالہ اور ایک 80 سالہ شخص ہلاک ہوا۔

اردن کی مسلح افواج نے حملوں کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ کارروائی شامی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی سے کی گئی، مگر دمشق نے اس دعوے کی واضح تردید کی۔ شام کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے پیشگی ہم آہنگی کے بغیر کیے گئے حملوں پر اپنی مکمل تحفظات سے اردن کو آگاہ کر دیا ہے، تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سرحدی علاقوں میں فیلڈ اور سکیورٹی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اردن نے کہا کہ حملوں میں کئی مشتبہ عسکریت پسند ہلاک یا زخمی ہوئے اور ٹھکانے اور ساز و سامان تباہ ہوا، مگر اس نے نہ نشانہ بنائے گئے گروہوں کے نام بتائے اور نہ اپنی ہلاکتوں کے اعداد و شمار دیے۔ شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے درعا اور سویدا میں کئی مقامات پر حملوں کی اطلاع دی جن میں المزیریب، نصیب اور خلخالہ فوجی ہوائی اڈے کے قریبی علاقے شامل ہیں۔

تنازع سامنے آنے کے چند گھنٹے بعد شام کی جنرل اتھارٹی فار بارڈر کراسنگز اینڈ کسٹمز نے اعلان کیا کہ نصیب گزرگاہ بند کر دی جائے گی اور مسافروں اور تجارتی آمد و رفت دونوں سمتوں میں معطل رہے گی تاکہ مسافروں اور سرحدی عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اتھارٹی نے اس کی وجہ صوبہ درعا کی زمینی صورتحال بتائی۔ نصیب اردن کی شام کے ساتھ واحد مسافر اور تجارتی سرحدی گزرگاہ ہے اور اس کی بندش سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور آمد و رفت متاثر ہونے کی توقع ہے۔

یہ حملے اردن کے اندر ہونے والی گرفتاریوں کے بعد سامنے آئے۔ سینیئر سکیورٹی حکام نے پیر کو کہا کہ سکیورٹی فورسز نے کرک کے گاوں الجدیدہ میں تقریبا تین گھنٹے جاری رہنے والی فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو بھائیوں اور ان کے بہنوئی کو گرفتار کر لیا۔ وزیر داخلہ مازن الفرایہ کے مطابق تینوں اردنی شہری ہیں۔ یہ افراد جمعے کے روز گرجا گھر کے جنازے پر ہونے والے اس حملے کے مشتبہ ملزمان ہیں جس میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد شاہ عبداللہ دوم نے سکیورٹی فورسز کو آہنی ہاتھ سے جواب دینے کا حکم دیا تھا۔

رائٹرز کے مطابق اردن نے گرجا گھر حملے کے مشتبہ ملزمان پر جنوبی شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں سے روابط کا الزام لگایا ہے۔ اردن میں اس نوعیت کا تشدد شاذ و نادر ہوتا ہے اور زرک نیوز نے 24 اکتوبر کو کرک حملے اور اس کے سکیورٹی اثرات پر ایک وضاحتی رپورٹ شائع کی تھی۔ اب اگلا مرحلہ اس بات پر منحصر ہے کہ عمان اور دمشق اس تنازع کو قابو میں رکھ پاتے ہیں یا گزرگاہ، جو دونوں طرف کے تاجروں اور مسافروں کے لیے زندگی کی لکیر ہے، تحقیقات مکمل ہونے تک بند رہتی ہے۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں