پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس آج، مذاکرات یا احتجاج کا فیصلہ، فیصلہ سازی کے اختیار پر قیادت میں اختلاف

فائل تصویر: عمران خان 23 جولائی 2019 کو واشنگٹن ڈی سی میں یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں خطاب کرتے ہوئے۔

فائل تصویر: عمران خان، یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس، واشنگٹن ڈی سی، 23 جولائی 2019۔ (زرک نیوز لائبریری)

اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منگل کو ہونے جا رہا ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ جماعت حکومت سے مذاکرات کرے گی یا احتجاج کی طرف لوٹے گی۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دوران سینیئر رہنماؤں میں اس بات پر عوامی اختلاف سامنے آیا ہے کہ فیصلہ سازی کا اختیار درحقیقت کس حد تک پارلیمانی فورم کو منتقل ہوا ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ فیصلہ سازی کے اختیارات پارلیمانی پارٹی کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور جماعت کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے مکمل منتقلی کی تردید کی اور کہا کہ بیشتر فیصلوں کا اختیار بدستور جماعت کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کے پاس ہے۔ منگل کے اجلاس کو اسی سوال کا فوری امتحان قرار دیا جا رہا ہے جس کے ایجنڈے میں مذاکرات، جیل میں موجود بانی عمران خان تک رسائی اور احتجاجی حکمت عملی شامل ہیں۔

یہ اختلاف اس وقت سامنے آیا ہے جب جماعت خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر کو نافذ کی گئی ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف لڑ رہی ہے جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ختم ہو گئی۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے بعد چھاپے، گرفتاریاں اور جماعتی پرچم اتارنے کے واقعات ہوئے جنہیں وہ سیاسی انتقام قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے کئی منتخب ارکان، جن میں سابق وزیراعلی سہیل آفریدی، بابر سلیم سواتی، جنید اکبر خان اور خالد خورشید شامل ہیں، لگ بھگ 15 دن سے عدالت میں پیش نہیں کیے گئے اور ان کا کوئی اتا پتا نہیں، اور وہ ان کی فوری بازیابی اور وکلا تک رسائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ جماعت کے دعوے ہیں، یہاں خلاصہ کی گئی رپورٹس میں حکام نے ارکان کے ٹھکانے کی تصدیق نہیں کی۔

گوہر ایمرجنسی کو پہلے ہی پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر چکے ہیں اور اسے سنگین سیاسی غلطی قرار دے چکے ہیں۔ 23 اکتوبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ آپ نے گورنر راج اور ایمرجنسی لگا کر ہمارے مینڈیٹ سے بنا قلعہ تو لے لیا، مگر کب تک رکھیں گے، یہ قلعہ عمران خان اور ہمارے عوام کا ہے۔ انہوں نے پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کا خیرمقدم بھی کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا، تاہم صوبے کو وفاق سے اس کا مکمل آئینی حصہ ملنا چاہیے۔

وفاقی حکومت نے ایمرجنسی کا دفاع سکیورٹی بنیادوں پر کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لاتعلق ہو گئی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس اقدام کا دفاع کیا تھا جس کی رپورٹ زرک نیوز نے 24 اکتوبر کو شائع کی تھی، اس تنازع میں وہ 160 ارب روپے بھی شامل ہیں جن کے بارے میں پی ٹی آئی کہتی ہے کہ وفاق صوبے کا مقروض ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی سے پارلیمنٹ سے باہر اور عمران خان کے بغیر مذاکرات نہیں ہوں گے، جس شرط کو پی ٹی آئی رہنما مسترد کرتے ہوئے اپنے بانی تک بلا رکاوٹ رسائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

منگل کو پارلیمانی پارٹی جو فیصلہ کرے گی وہ جماعت کے اگلے مرحلے کی سمت طے کرے گا، پارلیمنٹ اور عدالتوں کے راستے مذاکرات، سڑکوں پر احتجاج کی واپسی، یا دونوں کا متنازع امتزاج اگر قیادت کا اختلاف طے نہ ہوا۔ عمران خان بدستور اڈیالہ جیل میں ہیں اور لاہور میں ان کی بہنوں کی نظر بندی کا مقدمہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے جس میں لاہور ہائی کورٹ نے پیر کو بازیابی کی درخواست نمٹا دی تھی جب پنجاب حکومت نے مزید 30 دن کی توسیع کا انکشاف کیا تھا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں