امریکی انٹیلی جنس کی وارننگ: بیرون ملک امریکیوں کے خلاف ایرانی سازشیں اعلی درجے تک پہنچ گئیں، مشرق وسطی میں سفارتخانوں میں عملہ کم

23 اکتوبر کی امریکی انٹیلی جنس میمو میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کی وارننگ: بیرون ملک امریکیوں کے خلاف ایرانی سازشیں اعلی درجے تک پہنچ گئیں، مشرق وسطی میں سفارتخانوں میں عملہ کم

Zark News illustration

واشنگٹن — امریکی انٹیلی جنس نے خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی کوششیں اعلی درجے تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ وارننگ 23 اکتوبر کی ایک غیر خفیہ میمو میں دی گئی جو ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھیجی۔ میمو سب سے پہلے ایکسیوس نے رپورٹ کی اور ایک امریکی اہلکار نے یو ایس اے ٹوڈے سے اس کی صداقت کی تصدیق کی۔

کلیٹن نے لکھا کہ ایران نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے الفاظ میں، امریکی شہریوں کے خلاف ایرانی سازشیں مشرق وسطی اور بعض دیگر ممالک میں اعلی درجے تک پہنچ گئی ہیں۔

میمو میں کسی مخصوص ہدف کا نام نہیں لیا گیا اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی حملہ فوری طور پر متوقع ہے۔ یہ امریکی انٹیلی جنس کا جائزہ ہے، نہ کہ آزادانہ طور پر ثابت شدہ تفصیلات۔

اس وارننگ کے بعد محکمہ خارجہ نے خطے میں سفارتخانوں میں عملے میں کمی کے فیصلے کیے ہیں۔ اس سے قبل سعودی عرب سے غیر ضروری امریکی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو نکلنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جمعے کو اردن، لبنان، قطر اور متحدہ عرب امارات میں چار مزید سفارتخانوں میں عملے میں کمی کا اعلان کیا گیا۔

خطے میں مقیم یا سفر کرنے والے امریکیوں کے لیے اس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ سفارتخانوں میں عملہ کم اور سیکیورٹی سخت ہو گئی ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ کسی مخصوص سازش پر عوامی طور پر کیا کارروائی ہوگی۔

Sources: Axios; USA Today; Associated Press; The New York Times.

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں