اسلام آباد: پاکستان نے پیر کو سعودی عرب کے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے حوثی بیلسٹک میزائل حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ ادھر سعودی فضائی دفاع نے مسلسل تیسرے دن میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کیا اور سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن کے اندر میزائل ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان 24 اکتوبر 2026 کو سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے حوثی بیلسٹک میزائل حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے، جن میں مقدس مقامات کے قریبی علاقے بھی شامل تھے۔ بیان میں ان حملوں کو افسوسناک، سعودی عرب کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی اور اسلام کے مقدس ترین مقامات کی حرمت اور شہریوں کے تحفظ کی صریح توہین قرار دیا گیا۔ بیان کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی اور مکہ اتحاد سے اپنی پختہ وابستگی کا اعادہ کرتا ہے، اور حملوں کا مقابلہ کرنے پر سعودی فضائی دفاعی فورسز کی چوکسی اور کارکردگی کو سراہتا ہے۔
سعودی عرب کے مطابق اس کی دفاعی فورسز نے ہفتے کو مکہ اور مدینہ کے علاقوں کی جانب آنے والے دو بیلسٹک میزائل روک لیے، اور روکے گئے میزائلوں کا ملبہ مکہ صوبے کے وادی المغمس اور جدہ، طائف اور رابغ میں گرا۔ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے کہا کہ یہ حملے مقدس مقامات کی حرمت کی سنگین خلاف ورزی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کے مترادف ہیں۔ حوثیوں نے مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے سعودی الزام کو بہت بڑا جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ ان کی کارروائیاں سعودی آئل تنصیبات اور فوجی ٹھکانوں کے خلاف ہیں۔
اتوار کو حملوں کا دائرہ مزید پھیل گیا۔ روئٹرز کے مطابق سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ ریاض کی جانب دو ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل بھیجے گئے جبکہ جنوبی شہر خمیس مشیط کی جانب ایک کروز میزائل فائر کیا گیا، اور بعد ازاں اتحاد نے جنوب کی جانب بھیجے گئے دس بیلسٹک میزائل روک لیے۔ سعودی شہری دفاع کے مطابق روکے گئے میزائلوں کا ملبہ جنوب میں رہائشی علاقوں میں گرا جس سے دو افراد زخمی ہوئے اور تین رہائشی عمارتوں اور سات گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ پیر کی علی الصبح اتحادی ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ فضائی دفاع نے صبح ہونے سے پہلے ریاض کی جانب داغے گئے ایک اور بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔
اتحاد نے جواب میں موجودہ مرحلے کے سب سے بڑے بیان کردہ حملوں کا سلسلہ کیا۔ المالکی نے پیر کو کہا کہ اتحادی فورسز نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے میں بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کی پانچ سرنگیں، چار بیلسٹک میزائل لانچر اور ذخیرے کی ایک اور جگہ تباہ کر دی ہے، جبکہ رسد کے راستوں، اگلی صفوں کی قلعہ بندیوں اور فوجی سازوسامان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق صنعا میں تباہ ہونے والے لانچروں میں سے ایک وہی تھا جس سے ریاض پر میزائل داغا گیا تھا۔ صنعا اور یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مکینوں نے گھروں اور ایک رہائشی عمارت کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی جبکہ حوثی میڈیا نے کئی صوبوں میں حملوں کی خبر دی۔ ان بیانات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
روئٹرز کے مطابق حوثیوں نے پیر کو کہا کہ انہوں نے سعودی عرب کی مشرق مغرب آئل پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں اور ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کیے ہیں۔ اس کی فوری طور پر کوئی سعودی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع ائیر لائنوں، عملے اور مسافروں کو خبردار کر چکے ہیں کہ ہوائی اڈا بدستور فوجی ہدف ہے۔ ہوائی اڈے نے اتوار کو دو ٹرمینلز پر آپریشن بحال کیا تھا۔ اس سے پہلے اس ماہ کے آغاز میں ایک حملے، جس کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی تھی، میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ روئٹرز کے مطابق یہ مملکت میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے کا سب سے ہلاکت خیز حملہ تھا۔
پاکستان کے لیے یہ مذمت محض الفاظ سے بڑھ کر معنی رکھتی ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں مملکت کی سکیورٹی، استحکام اور دفاع، بشمول حرمین شریفین کے تحفظ، کے لیے ہر بیرونی جارحیت یا خطرے کے مقابلے میں پاکستان کی ثابت قدم حمایت کی تجدید کی گئی اور مکہ اتحاد کا حوالہ دیا گیا۔ یہ وہی باہمی دفاعی معاہدہ ہے جس کی پاکستان کی پارلیمنٹ نے گزشتہ ہفتے منظوری دی اور جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ اسی دن پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں اپنے سعودی اور ترک ہم منصبوں کے ہمراہ حوثیوں کے سب سے بڑے پشت پناہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے مذاکرات میں شریک تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تنازع نئے معاہدے کو بیک وقت دونوں سمتوں سے کس قدر تیزی سے آزمائش میں ڈال رہا ہے۔
