شہباز شریف کا خیبر پختونخوا ایمرجنسی کا دفاع، 160 ارب روپے کا وعدہ؛ پی ٹی آئی کا اقدام عدالت میں چیلنج

عمران خان یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس، واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے، 23 جولائی 2019 (فائل فوٹو)

فائل فوٹو: عمران خان، یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس، واشنگٹن، 23 جولائی 2019۔ (زرک نیوز لائبریری)

پشاور — وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے صوبے کے لیے 160 ارب روپے کی ترقیاتی رقم کا وعدہ کیا ہے۔ 11 اکتوبر کو صوبائی حکومت کی برطرفی کے بعد صوبے کے اپنے پہلے دورے میں انہوں نے یہ اعلان کیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے اور اپنی منتخب حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

گورنر ہاؤس پشاور میں خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی مجبوری میں کیا گیا۔ ان کے مطابق ایک سیاسی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکراتی حل کی کوشش کی اور انہوں نے آگے بڑھنے سے پہلے صدر آصف علی زرداری سے دو مرتبہ مشاورت کی۔ 2 اور 3 اکتوبر کو وفاقی اور صوبائی نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے۔ صدر زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کی منظوری دی جس کے بعد صوبائی اختیارات وزیر اعلی سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ سے گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہو گئے۔

شہباز شریف نے پی ٹی آئی کی صوبائی انتظامیہ پر سکیورٹی، تعلیم اور صحت کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس کی پانچ ہزار آسامیاں خالی رہیں، سیف سٹی منصوبے نامکمل رہے اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے پاس تربیت اور ساز و سامان کی کمی رہی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پارلیمان کو بتایا کہ صوبے میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے 3787 واقعات ریکارڈ ہوئے۔ دوسری جانب ایک آزاد تحقیقی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق 2026 کے پہلے نو ماہ میں ملک بھر میں 1232 حملے ہوئے جو پورے 2025 کے مجموعے سے بھی زیادہ ہیں۔ دونوں اعداد و شمار کی تعریفیں اور دائرہ کار مختلف ہیں اس لیے ان کا براہ راست موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

پی ٹی آئی کا جواب اور عدالتی چیلنج

پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان نے 14 اکتوبر کو پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں اقدامات کی منسوخی اور منتخب حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرٹیکل 232 اور 234 کے نفاذ کی آئینی شرائط پوری نہیں ہوتیں۔ ایک پریس کانفرنس میں گوہر علی خان نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گردی اور ایمرجنسی 12 اضلاع میں ہے تو پورے صوبے میں گورنر راج کیوں نافذ کیا گیا۔ سابق صوبائی وزیر خزانہ اور پی ٹی آئی رہنما تیمور جھگڑا نے کہا کہ یقینا صوبائی حکومت دہشت گردی سے لڑ رہی تھی اور ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ذمہ دار ہیں۔

24 اکتوبر کو پی ٹی آئی رہنماؤں میجر ریٹائرڈ طاہر صادق اور سابق رکن قومی اسمبلی ایمان طاہر نے ایک مشترکہ بیان میں ان اقدامات کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ پی ٹی آئی 12 اکتوبر کو احتیاطی حراست میں لیے گئے سہیل آفریدی اور کابینہ ارکان کی رہائی کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس وقت ان گرفتاریوں کی تصدیق کی تھی۔

رقم اور 12 اضلاع کا انتظام

شہباز شریف نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 160 ارب روپے کا اعلان کیا، وفاقی ذخائر سے وفاقی قیمت پر گندم کی فراہمی کا وعدہ کیا اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو مضبوط بنانے اور سیف سٹی منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ ان کے مطابق 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے بعد سے انسداد دہشت گردی کے لیے صوبے کو 800 ارب روپے سے زائد فراہم کیے گئے یا کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے 12 نامزد اضلاع کے لیے ایک ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ قائم کیا ہے جس کی کونسل میں 48 بزرگ اور نمایاں شخصیات شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر اضلاع افغان سرحد یا سابق قبائلی علاقوں میں واقع ہیں۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دی۔ آگے کی صورت حال کا انحصار دو امور پر ہے کہ آیا رقم اور ساز و سامان سے زمینی سکیورٹی بہتر ہوتی ہے اور آیا پشاور ہائی کورٹ پی ٹی آئی کی یہ دلیل قبول کرتی ہے کہ یہ اقدام خود غیر آئینی تھا۔ وزیر اعظم کے دورے تک عدالت کے کسی فیصلے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

ماخذ: ایشیا ڈیلی، 24 اکتوبر 2026۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں