امریکی ٹھیکیدار پر قومی دفاعی معلومات لیک کرنے کا الزام

خفیہ فولڈرز اور لیپ ٹاپ کی تصویری نمائندگی

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

واشنگٹن — اعلی درجے کی سکیورٹی کلیئرنس رکھنے والے ایک امریکی سرکاری ٹھیکیدار کو گرفتار کر کے اس پر قومی دفاعی معلومات غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ محکمہ انصاف نے جمعے 23 اکتوبر کو اعلان کیا کہ استغاثہ کے مطابق ملزم نے خفیہ معلومات اپنی ایک ساتھی کو دیں جس نے وہ مواد آن لائن شائع کیا۔

واشنگٹن ڈی سی سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ ایان اے برنکس مین کو ایف بی آئی نے ان کی رہائش کی تلاشی کے بعد گرفتار کیا اور فوجداری شکایت کے تحت ان پر الزام عائد کیا گیا ہے۔ محکمے کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے اپنے فرائض سے کہیں آگے بڑھ کر انتہائی خفیہ معلومات حاصل کیں اور وہ ایک ایسی ساتھی کے حوالے کیں جس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ وہ انہیں شائع کرے گی۔

محکمے کے مطابق برنکس مین نے 2020 میں مشرقی ورجینیا میں قائم ایک امریکی سرکاری ایجنسی میں ملازمت شروع کی اور 2022 میں اسی ایجنسی کی ایک ٹھیکیدار کمپنی کے لیے سسٹمز انٹیگریشن ڈویلپر کے طور پر کام شروع کیا۔ متعلقہ تمام عرصے میں ان کے پاس ٹاپ سیکرٹ کلیئرنس موجود تھی۔

شکایت میں کیا کہا گیا ہے

محکمے کے مطابق برنکس مین کا ایک ایسے شخص سے ذاتی تعلق تھا جو سب اسٹیک پر ایک آن لائن اشاعت چلاتا ہے۔ ستمبر 2026 میں شائع ہونے والے اس شخص کے ایک مضمون میں دعوی کیا گیا تھا کہ اس نے خفیہ سرکاری جائزوں پر مبنی رپورٹنگ شائع کی ہے اور اس کے سوشل میڈیا پروفائل پر لکھا تھا کہ وہ لیک قبول کرتی ہے۔

اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا کہ قومی دفاعی معلومات کو اس لیے خفیہ رکھا جاتا ہے تاکہ امریکی عوام کو دنیا بھر کے ان عناصر سے بچایا جا سکے جو انہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے کہا کہ گرفتاری ایجنسی کی نشاندہی کے بعد عمل میں آئی اور لیک کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قومی سلامتی کے معاون اٹارنی جنرل جان آئزن برگ نے کہا کہ یہ لاپرواہی نہیں، حلف کی خلاف ورزی ہے۔

آگے کیا ہوگا

ایف بی آئی کا شکاگو دفتر واشنگٹن دفتر کی مدد سے تحقیقات کر رہا ہے۔ مقدمہ قومی سلامتی ڈویژن کے وکلاء اور مشرقی ورجینیا اور واشنگٹن کے وفاقی پراسیکیوٹرز کے سپرد ہے۔

شکایت میں درج الزامات محض الزامات ہیں اور برنکس مین کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے۔ محکمے کے اعلان میں ملزم کے وکیل کا کوئی موقف شامل نہیں تھا اور نہ سماعت کی تاریخ دی گئی تھی۔

ماخذ: امریکی محکمہ انصاف کی پریس ریلیز، 23 اکتوبر 2026۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں