جمعے کی صبح پیرس کے نواحی قصبوں ٹراپ اور لا ویریئر میں ایک مسلح شخص نے گاڑی سے فائرنگ کر کے ایک شخص کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کر دیا۔ زخمیوں میں ایک 12 سالہ لڑکی بھی شامل ہے جسے آٹھ گولیاں لگیں اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے شام کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور حملے کو "نسل پرستانہ دہشت گرد حملہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کے لیے ایک موڑ ہے کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے منصوبہ بندی کے ساتھ فرانسیسی شہریوں اور بچوں کو ان کی جلد کی رنگت یا مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا۔
پندرہ منٹ کا حملہ
صبح تقریباً دس بجے مشتبہ شخص کیون ٹی، جس کی عمر 39 سال بتائی گئی ہے، نے سرمئی رنگ کی رینالٹ کلیو کار میں سوار ہو کر فائرنگ شروع کی۔ اس نے پٹرول پمپ، طبی مرکز اور بچوں کے کھیل کے میدان سمیت کئی مقامات پر فائرنگ کی۔ تقریباً بیس منٹ بعد اسے قریبی قصبے کوئینیئر میں گرفتار کر لیا گیا۔
تفتیش کاروں کے مطابق مشتبہ شخص نے اپنے فلیٹ میں گیس کے تین سلنڈر اور بجلی کی تاروں سے ٹائمر لگا کر دھماکہ خیز جال بھی بچھا رکھا تھا۔ اس کے مجرمانہ ریکارڈ میں عام جرائم کی 13 شکایات درج ہیں جبکہ دائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں سے اس کا کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔
نسل پرستی کی بنیاد پر تفتیش
فرانس کے قومی انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹر نے تفتیش سنبھال لی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا متاثرین کو ان کی نسل، قومیت یا مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ میکرون نے کہا کہ حملہ آور نے کچھ لوگوں کو ان کی جلد کی رنگت دیکھ کر جان بوجھ کر بخش دیا۔
ٹراپ کے میئر علی رابع نے حملے کو "نسل پرستانہ” اور "اسلاموفوبک” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نشانہ بنائے گئے لوگ ان کی والدہ، بھائی یا بھابھیاں بھی ہو سکتے تھے۔ دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی رہنما مارین لوپین نے بھی حملے کی مذمت کی۔
فرانس میں کشیدہ ماحول
یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب گزشتہ ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تشدد ہوا تھا اور اس ہفتے کے آخر میں مزید مظاہروں کا منصوبہ ہے۔ تفتیش جاری ہے اور زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار ہے۔
مصادر: لے مونڈ، سی این این، وال اسٹریٹ جرنل۔
