کرک میں گرجا گھر کے جنازے پر فائرنگ سے سات افراد ہلاک، اردن بھر میں سکیورٹی بڑھا دی گئی

کرک میں گرجا گھر کے باہر سوگواروں کی تصویری نمائندگی

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

عمان — اردن کے جنوبی صوبے کرک میں ایک گرجا گھر میں جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہونے کے بعد ملک بھر میں شاپنگ مالز، غیر ملکی سفارت خانوں اور دیگر مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ یہ بات رائٹرز اور اردنی حکام نے بتائی ہے۔

اردن کے پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ عبید اللہ المعیطہ نے کرک میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے اور 34 زخمی ہیں جن میں سے 27 اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اس سے قبل دن کے دوران چھ ہلاکتوں اور 28 زخمیوں کی اطلاع دی گئی تھی۔ یہ حملہ حمود گاؤں میں ایک یونانی آرتھوڈوکس گرجا گھر میں جنازے کے موقع پر ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق جلوس شروع ہوتے ہی ایک دھماکے کی آواز آئی جس کے بعد نقاب پوش حملہ آوروں نے کئی منٹ تک فائرنگ کی۔ ایک گواہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس وقت گرجا گھر میں 150 سے 200 افراد موجود تھے۔

وزیر داخلہ مازن الفرایہ نے اس حملے کو شدت پسندوں کی جانب سے کیا گیا دہشت گرد حملہ قرار دیا اور کہا کہ سکیورٹی ادارے مجرموں تک پہنچنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ شاہ عبداللہ دوم نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔

تلاش جاری، کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی

کسی گروہ نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ رائٹرز کے مطابق حکام حملہ آوروں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ حملہ آوروں کا ملک کے اندر یا باہر کے کسی معروف گروہ سے تعلق تھا یا نہیں۔ حملہ آوروں کی تعداد کے بارے میں شائع شدہ اطلاعات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

عمان میں امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ حملے کے بعد اردن بھر میں مالز، سفارت خانوں اور دیگر مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ حکام اس خطرے کو صرف کرک تک محدود نہیں سمجھ رہے۔

یہ واقعہ اہم کیوں ہے

اردن طویل عرصے سے خود کو ایک پر آشوب خطے میں استحکام کا جزیرہ قرار دیتا آیا ہے اور مذہبی اجتماعات پر حملے وہاں شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔ دارالحکومت عمان سے تقریبا 180 کلومیٹر جنوب میں واقع کرک میں مسیحی برادری آباد ہے اور حکام نے اس فائرنگ کو فوری طور پر قومی یکجہتی پر حملہ قرار دیا ہے۔

آنے والے دنوں کا انحصار حملہ آوروں کی تلاش اور اس بات پر ہوگا کہ تفتیش کار یہ ثابت کر پاتے ہیں کہ حملہ کس نے کرایا۔ گرفتاری یا ذمہ داری کی تصدیق تک حملے کا مقصد نامعلوم رہے گا۔ زرک نیوز تصدیق شدہ معلومات سامنے آنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

ماخذ: رائٹرز، 24 اکتوبر 2026۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں