نیویارک — ہیکرز نے جمعرات کو دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائننس سے 6 ارب ڈالر سے زیادہ کی کرپٹو کرنسی چوری کر لی۔ سی این این کے مطابق تفتیش کاروں نے اسے تاریخ کی سب سے بڑی ایسی واردات قرار دیا ہے۔
سی این این کے مطابق جمعرات کی رات امریکہ میں کرپٹو کمپنیوں کے ایک گروپ نے چوری شدہ رقم میں سے تقریبا 3 ارب ڈالر منجمد کر لیے تھے۔ یہ ابتدائی تخمینہ ہے اور تفتیش آگے بڑھنے پر اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔
بائننس نے جمعرات کی رات کہا کہ اس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ ایک انجینئر کے لیپ ٹاپ کے ذریعے ہوا۔ کمپنی کے مطابق اسی رسائی سے حملہ آور ایک سروس کنٹینر تک پہنچا اور غیر مجاز نکاسی کی ٹرانزیکشنز بھیجنے میں کامیاب ہوا۔ بائننس نے کہا کہ اس نے سیکیورٹی جانچ مکمل ہونے تک جمع اور نکاسی عارضی طور پر روک دی، متاثرہ ایڈریس کی اجازت منسوخ کر دی اور رقم کا سراغ لگانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بلاک چین ماہرین سے رابطہ کیا۔
کمپنی نے کہا کہ وہ تمام نقصان اپنے فنڈز اور ہنگامی فنڈ سے پورا کرے گی اور صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں۔ بائننس کے شریک بانی چانگ پینگ ژاؤ نے کہا کہ یہ بظاہر ایک ہیک ہے اور انہیں توقع ہے کہ صارفین کی رقم مکمل طور پر پوری کی جائے گی۔
تین ٹریسنگ فرموں نے اس واردات کا ذمہ دار شمالی کوریا کو ٹھہرایا۔ ٹی آر ایم لیبز نے اسے شمالی کوریا کے ایک ماہر ہیکنگ یونٹ کی کارروائی قرار دیا۔ پینگولن انٹیلی جنس اور چینالیسس نے بھی سی این این کو اسی نتیجے کی تصدیق کی۔ سی این این نے اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے مشن سے رابطہ کیا ہے۔ شمالی کوریا ماضی میں ہیکنگ کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور یہ الزام نجی فرموں کا جائزہ ہے، کسی عدالت کا فیصلہ نہیں۔
اس سے پہلے سب سے بڑی واردات بائٹ ایکسچینج سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی چوری تھی، جس کا الزام بھی شمالی کوریا کے ہیکرز پر لگایا گیا تھا۔ بٹ کوائن اور ایتھر کی قیمتوں میں خبر کے بعد پہلے تیزی سے کمی آئی اور پھر کچھ بحالی ہوئی۔ آئندہ کا انحصار اس پر ہے کہ باقی رقم منجمد ہو پاتی ہے یا نہیں اور بائننس لیپ ٹاپ تک رسائی کی تفصیل کیا بتاتا ہے۔
