امریکہ میں جعلی طلبہ اسکینڈل پر پانچ افراد پر فرد جرم، 8 لاکھ سے زیادہ مشکوک اکاؤنٹس کی نشاندہی

تصویر: ڈپلومہ کے اوپر ایک بھوت نما شکل، جعلی طلبہ کی علامت۔

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

واشنگٹن — امریکی محکمہ انصاف نے جمعرات کو آپریشن گھوسٹ بسٹرز کی پہلی کارروائی کا اعلان کیا۔ یہ ملک گیر تفتیش چوری شدہ شناختوں اور جعلی طلبہ کے ذریعے طلبہ امداد میں فراڈ کے ایک بڑے منصوبے کے بارے میں ہے۔

محکمے کے مطابق تین اضلاع ورجینیا، نیبراسکا اور نیو جرسی میں پانچ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی اور اس منصوبے سے جڑی 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر سے زیادہ کی کرپٹو کرنسی ضبط کی گئی۔ یہ الزامات ہیں اور ملزمان کو اس وقت تک بے گناہ سمجھا جائے گا جب تک عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے۔

تفتیش کاروں کے مطابق ستمبر اور اکتوبر میں 830840 مشکوک وفاقی طلبہ امداد شناختی اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی جن کا تعلق تقریبا 13 کروڑ ڈالر سے تھا۔ یہ مشکوک اکاؤنٹس کی گنتی ہے، حتمی ثابت شدہ نقصان نہیں۔ ایف بی آئی نے الگ سے کہا کہ اسی طرح کے جعلی طلبہ منصوبوں میں 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ کے نقصان کی نشاندہی ہوئی ہے اور وسیع تر مسئلہ 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ یہ سرگرمی کم از کم 2021 سے جاری بتائی جاتی ہے۔

نیو جرسی میں تین افراد پر وائر فراڈ کی سازش کا الزام ہے۔ نیبراسکا میں ایک کینیائی شہری پر سرکاری رقم کی چوری اور شناخت کی سنگین چوری کے الزامات ہیں۔ ورجینیا میں ایک مہر بند فرد جرم میں ایک کینیائی شہری پر 700 سے زیادہ جعلی رقوم وصول کرنے کا الزام ہے جن کی مالیت تقریبا 14 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔

حکام کے مطابق چوری شدہ شناختوں سے وفاقی طلبہ امداد کے فارم بھرے گئے، جعلی طلبہ داخل کیے گئے اور رقوم وصول کی گئیں۔ بعض صورتوں میں درخواست اور کورس ورک مکمل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی بتایا گیا تاکہ جعلی طالب علم پڑھتا ہوا نظر آئے۔

محکمے کے مطابق 26 ایف بی آئی فیلڈ دفاتر میں 40 سے زیادہ تفتیشیں جاری ہیں۔ آئندہ مزید فرد جرم اور عدالتوں میں کارروائی متوقع ہے اور محکمہ تعلیم مشکوک اکاؤنٹس کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں