سنگاپور — یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں کے دعوے کے بعد جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ رائٹرز کے مطابق خطے میں رسد کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ 86 سینٹ یعنی 0.75 فیصد بڑھ کر 115.74 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 72 سینٹ بڑھ کر 102.72 ڈالر ہو گیا۔ مہینے بھر میں برینٹ تقریبا 14 فیصد اور امریکی تیل تقریبا 15 فیصد مہنگا ہوا ہے اور اپریل کے بعد پہلی بار 100 ڈالر سے اوپر بند ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
حوثیوں نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے سعودی عرب میں کئی مقامات پر حملے کیے، جن میں راس تنورہ کی سب سے بڑی ریفائنری، رابغ ریفائنری اور ابقیق میں آرامکو کی تنصیب شامل ہیں۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ اس نے حوثیوں کا ایک کروز میزائل روکا جو مملکت کے مغربی علاقے کی طرف آ رہا تھا۔ دونوں بیانات فریقین کے دعوے ہیں اور نقصان کی مکمل تصدیق رائٹرز کی رپورٹ میں نہیں ہوئی۔
آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی نے بھی دباؤ بڑھایا۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ تین ٹینکر غیر مجاز راستہ استعمال کرتے ہوئے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرائے اور ان میں آگ لگ گئی۔ ماہرین کے مطابق ہرمز کے گرد کارروائی اور سفارت کاری کی غیر یقینی صورتحال قیمتوں کو اونچا رکھے ہوئے ہے۔
اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے طبی سامان کی فراہمی اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران سے رابطہ کیا ہے۔ ایران کی نیم سرکاری تسنیم ایجنسی کے مطابق ایران کو وینس کا خط ملا ہے لیکن اس نے ابھی جواب نہیں دیا اور تہران چاہتا ہے کہ امریکہ اس کی شرائط پوری کرے۔
سکیورٹی خدشات کے باعث ایکسون موبل اور شیوران نے اگلے ہفتے متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے آئل شو کے لیے اپنے ایگزیکٹوز کا سفر منسوخ کر دیا۔ آئندہ قیمتوں کا انحصار اس پر ہوگا کہ توانائی تنصیبات پر حملے جاری رہتے ہیں یا نہیں اور ہرمز سے جہاز رانی کھلی رہتی ہے یا نہیں۔
