واشنگٹن — صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سمندری طوفان اسائیس کے بعد فلوریڈا کے لیے بڑی آفات امداد کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی ادارے فیما کے مطابق اس سے ریاست کی 15 کاؤنٹیوں کو وفاقی عوامی امداد ملے گی۔ یہ منظوری طوفان کے ڈیسٹن کے قریب ساحل سے ٹکرانے کے تقریبا تین ہفتے بعد آئی ہے۔
27 اکتوبر کو دستخط ہونے والے اس اعلان کے تحت بے، کالہون، اسکیمبیا، فرینکلن، گیڈزڈن، گلف، ہومز، جیکسن، جیفرسن، لبرٹی، اوکالوسا، سانتا روزا، واکولا، والٹن اور واشنگٹن کاؤنٹیوں میں ریاستی و مقامی حکومتوں اور بعض غیر منافع بخش اداروں کو وفاقی رقم مل سکے گی۔ یہ رقم ہنگامی کاموں، ملبہ اٹھانے اور تباہ شدہ عوامی سڑکوں، عمارتوں اور سہولتوں کی مرمت پر خرچ ہو سکے گی۔ 9 اکتوبر کو جاری ہونے والا ہنگامی اعلان صرف فوری امدادی کاموں کے لیے تھا۔
ایک نکتہ مقامی سطح پر غلط فہمی پیدا کر رہا ہے۔ اس اعلان میں صرف عوامی امداد منظور ہوئی ہے۔ انفرادی امداد، جس سے گھرانوں کو عارضی رہائش اور گھر کی بنیادی مرمت کے لیے براہ راست رقم ملتی ہے، ابھی زیر غور ہے۔ فیما کی فیکٹ شیٹ کے مطابق خطرات کم کرنے کے فنڈ کا فیصلہ بھی باقی ہے۔ فلوریڈا نے 16 اکتوبر کی درخواست میں آٹھ کاؤنٹیوں کے لیے انفرادی امداد بھی مانگی تھی۔
نقصان بڑا ہے۔ نیوز سروس آف فلوریڈا کے مطابق ریاست میں بیمہ نقصان 58 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے اور 55 ہزار سے زیادہ دعوے دائر ہو چکے ہیں۔ صرف ملبہ اٹھانے پر مقامی حکومتوں کا اندازہ نو کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہے۔ فاکس ویدر کے مطابق طوفان سے چار لاکھ سے زیادہ صارفین کی بجلی گئی اور گورنر رون ڈی سینٹس نے طوفان سے جڑی چھ اموات کی اطلاع دی ہے۔
سانتا روزا کاؤنٹی کے شہر ملٹن میں سٹی مینیجر ایڈ سپیئرز نے فاکس ویدر کو بتایا کہ چار سے پانچ لاکھ مکعب گز ملبہ ابھی اٹھانا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وسائل ختم ہوتے جا رہے ہیں مگر ہم ہر روز اسی کام میں لگے ہیں۔ ریاست کے مطابق طوفان کے بعد سے تقریبا 1900 امدادی مشن مکمل کیے گئے اور ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ کھانے اور 33 ہزار ترپالیں تقسیم کی گئیں۔
اب کاؤنٹی حکومتیں ریاست کے ذریعے اخراجات کی واپسی کے لیے درخواست دے سکیں گی۔ گھرانوں کو براہ راست وفاقی مدد ملے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ انفرادی امداد کی زیر غور درخواست پر ہوگا جس کی کوئی تاریخ فیما نے نہیں دی۔
