نیویارک — گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کے حصص بدھ کو کاروبار کے بعد کی ٹریڈنگ میں تقریبا 10 فیصد گر گئے۔ کمپنی کے تیسری سہ ماہی کے نتائج ماہرین کی توقعات سے کم رہے اور یہ بھی سامنے آیا کہ مصنوعی ذہانت کے بڑے منصوبوں پر خرچ اس آمدن سے بھی بڑھ گیا ہے جو کاروبار نے پیدا کی۔ دوسری طرف اسی شام نتائج دینے والی مائیکروسافٹ کو انعام ملا، کیونکہ اس کے کلاؤڈ کاروبار نے 18 ارب 60 کروڑ ڈالر کا آزاد نقد بہاؤ پیدا کیا۔ یہ تفصیلات رائٹرز نے دی ہیں۔
الفابیٹ کے مطابق اس کی آمدن ایک سال پہلے کے مقابلے میں 25 فیصد بڑھ کر 127 ارب 60 کروڑ ڈالر ہوئی، جو ماہرین کی تقریبا 128 ارب ڈالر کی توقع سے کچھ کم ہے۔ فی حصص آمدن 2.12 ڈالر رہی جبکہ توقع 3.02 ڈالر تھی۔ اس کمی کی ایک وجہ ایکویٹی سرمایہ کاری پر 8 ارب 70 کروڑ ڈالر کا نقصان بھی ہے۔ گوگل کلاؤڈ روشن پہلو رہا: اس کی آمدن دگنی سے بڑھ کر 30 ارب 70 کروڑ ڈالر ہو گئی اور سربراہ سندر پچائی نے کہا کہ جیمنائی ایپ کے صارفین ایک ارب سے بڑھ گئے ہیں۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خرچ پر رہی۔ اس سہ ماہی میں سرمایہ خرچ 51 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جو ایک سال پہلے 24 ارب ڈالر تھا، اور آزاد نقد بہاؤ منفی 9 ارب 10 کروڑ ڈالر رہا۔ یہ مسلسل دوسری سہ ماہی ہے جس میں یہ بہاؤ منفی ہوا ہے۔ مالیاتی سربراہ انات اشکنازی نے کہا کہ 2026 کے لیے خرچ کا اندازہ 195 سے 205 ارب ڈالر برقرار ہے اور 2027 میں یہ خرچ نمایاں طور پر بڑھے گا۔ سرچ اشتہارات کی نمو سست ہو کر 12 فیصد اور یوٹیوب اشتہارات کی نمو تقریبا 9 فیصد رہی۔
مائیکروسافٹ نے اسی کہانی کا دوسرا رخ پیش کیا۔ اس کی آمدن 19 فیصد بڑھ کر 92 ارب 30 کروڑ ڈالر ہوئی، ایژور کلاؤڈ کی آمدن میں 48 فیصد اضافہ ہوا، خرچ اس کے اپنے اندازے سے کم رہا اور آزاد نقد بہاؤ 18 ارب 60 کروڑ ڈالر رہا، جس کے بعد اس کے حصص تقریبا تین فیصد بڑھ گئے۔ مارکیٹ کا اصول واضح ہوتا جا رہا ہے: بھاری خرچ مسئلہ نہیں، لیکن سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ اس خرچ کے ساتھ نقد بہاؤ بھی جاری رہے۔
اس کا اثر جمعرات کو ایشیائی مارکیٹوں میں بھی دکھا۔ نیسڈیک فیوچرز ایک فیصد سے زیادہ گریں اور سیمسنگ الیکٹرانکس کے حصص ریکارڈ منافع کے باوجود پانچ فیصد گر گئے۔ ایمیزون اور انٹیل جمعرات کو بعد میں اپنے نتائج دیں گے۔ فیڈرل ریزرو نے بدھ کو شرح سود برقرار رکھی تھی، جس کا مطلب ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے قرض لینا سستا نہیں ہو رہا۔
