ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ نچلی سطح 33 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے 16 دن پہلے

ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ نچلی سطح 33 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے 16 دن پہلے

Zark News illustration

واشنگٹن پوسٹ–اے بی سی نیوز–اپسوس کے اتوار کو شائع شدہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کی شرح محض 33 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 66 فیصد عدم منظوری کا اظہار کرتے ہیں — یہ اس سروے میں اب تک کی سب سے کم شرح ہے۔ سروے کے مطابق 52 فیصد امریکی "شدید عدم منظوری” کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے صرف 16 دن پہلے سامنے آئے ہیں۔

این بی سی نیوز اور سروے منکی کے سروے میں بھی ٹرمپ کی منظوری 34 فیصد ریکارڈ ہوئی، جبکہ 71 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ–اے بی سی–اپسوس سروے 9 سے 13 اکتوبر کے درمیان 2545 بالغ افراد میں کیا گیا، جس کا مارجن آف ایرر ±2 پوائنٹس ہے۔

سروے کے مطابق 74 فیصد امریکی رہن سہن اور مہنگائی سے متعلق پالیسیوں سے عدم مطمئن ہیں۔ 2014 کے بعد پہلی بار ڈیموکریٹس معیشت پر ریپبلکنز سے زیادہ معتبر قرار پائے — 40 فیصد کے مقابلے میں 33 فیصد — جبکہ ایوان نمائندگان کے عام بیلٹ میں ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر 8 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

سروے میں مہنگائی کا دباؤ سب سے نمایاں محرک نظر آیا: 71 فیصد بالغ افراد کے نزدیک پٹرول کی قیمتیں ناقابل برداشت ہیں، اور 48 فیصد کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی واپسی کے بعد ان کی مالی حالت بگڑی ہے — یہ 1986 کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔ سی این این نے 19 اکتوبر کی رپورٹ میں 33 فیصد کے سروے اور اس کے معیشت اور ایران کے محرکات کی تصدیق کی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اعتراف کیا کہ "پٹرول کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں”۔

این بی سی کے سروے کے مطابق 71 فیصد امریکیوں کو شک ہے کہ ٹرمپ واقعی ڈیلاس میں جی او پی کے وسط مدتی کنونشن میں وعدہ کردہ 5000 ڈالر کے "ڈیویڈنڈ” چیک دیں گے۔ یہ وعدہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مہم سے حاصل شدہ رقوم سے عوام کو براہ راست ادائیگی کی صورت میں کیا تھا۔

یہ کیوں اہم ہے

وسط مدتی انتخابات سے محض 16 دن پہلے صدر کی 33 فیصد منظوری کی شرح ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔ معیشت پر ڈیموکریٹس کا 2014 کے بعد پہلی بار اعتبار حاصل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں نے ٹرمپ کی روایتی مضبوط ترین محاذ کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ ایوان نمائندگان میں 8 پوائنٹس کی برتری ڈیموکریٹس کو ایوان کا کنٹرول واپس لینے کی پوزیشن میں دکھا رہی ہے۔

آگے کیا ہوگا

آئندہ 16 دنوں میں دونوں جماعتیں مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں کو مرکزی انتخابی موضوع بنائیں گی۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایران مہم کے اخراجات اور پابندیوں کی معطلی کے فیصلے مزید جانچ کا شکار ہوں گے، جبکہ ڈیموکریٹس 33 فیصد منظوری کے اعداد کو اپنے ہر حلقے میں استعمال کریں گے۔ حتمی فیصلہ 3 نومبر کو ووٹرز کے ہاتھ میں ہوگا — اور یہ سروے بتاتے ہیں کہ معیشت ہی میدان جنگ ہوگی۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں