اقوام متحدہ کا غذائی ادارہ فنڈنگ کی کمی کے باعث غزہ میں 5 لاکھ افراد کی امداد کاٹے گا

اقوام متحدہ کا غذائی ادارہ فنڈنگ کی کمی کے باعث غزہ میں 5 لاکھ افراد کی امداد کاٹے گا

Zark News illustration

رائٹرز کی 19 اکتوبر کی رپورٹ (صحافی ندال المغربی) کے مطابق اقوام متحدہ کا ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) غزہ میں اپنی ماہانہ امداد 16 لاکھ افراد سے گھٹا کر 11 لاکھ افراد کر رہا ہے — یعنی تقریباً 5 لاکھ افراد ماہانہ غذائی امداد سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ کٹوتیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب غزہ کی آبادی پہلے ہی شدید غذائی بحران کا شکار ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے مطابق اسے اگلے چھ ماہ کے لیے تقریباً 450 ملین ڈالر درکار ہیں، جبکہ 2026 میں فلسطینی آپریشنز کے لیے ملنے والی فنڈنگ پچھلے سالوں کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم رہی۔ فنڈنگ کا یہ خسارہ عالمی عطیہ دہندگان کی جانب سے امداد میں کمی کا نتیجہ ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے فلسطین ڈائریکٹر شان ہیوز کے مطابق یہ کٹوتیاں مالی دباؤ کی وجہ سے ہیں، "ضرورت میں کمی کی وجہ سے نہیں”۔ ایمرجنسی کوآرڈینیٹر ولی نیکو نے اقوام متحدہ کی بریفنگ میں صورتحال کی سنگینی پر روشنی ڈالی اور عطیہ دہندگان سے فوری فنڈنگ کی اپیل کی۔

کٹوتیوں کی تفصیل کے مطابق براہ راست غذائی امداد پانے والے 11 لاکھ سے گھٹ کر تقریباً 6 لاکھ افراد ماہانہ رہ جائیں گے۔ جولائی سے نقد امداد کی قیمت پہلے ہی کم کی جا چکی ہے، جس سے تقریباً 5 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے، جبکہ گھریلو راشن میں بھی کمی کی جا رہی ہے۔

غزہ کی 80 فیصد سے زائد آبادی بے روزگار ہے، جس سے خاندانوں کی اپنی خوراک خریدنے کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسفیکیشن (آئی پی سی) کے تجزیے کے مطابق جولائی سے دسمبر 2026 کے دوران تقریباً 14 لاکھ افراد — یعنی 67 فیصد آبادی — شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے گی۔

یہ کیوں اہم ہے

غزہ میں امداد کا انحصار پہلے ہی انتہائی حد تک ہے — 80 فیصد سے زائد بے روزگاری کا مطلب ہے کہ لاکھوں خاندانوں کے پاس خوراک کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں۔ ایسے میں 5 لاکھ افراد کی ماہانہ امداد کٹنا براہ راست بھوک اور غذائی قلت میں اضافے کا باعث بنے گا۔ آئی پی سی کا 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی عدم تحفظ کا تخمینہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بحران امداد میں کمی سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے — یہ ایک منظم انسانی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

آگے کیا ہوگا

ڈبلیو ایف پی کو اگلے چھ ماہ کے لیے 450 ملین ڈالر کی فوری ضرورت ہے — اگر عطیہ دہندگان نے فنڈنگ نہ بڑھائی تو کٹوتیاں مزید گہری ہوں گی اور امداد پانے والوں کی تعداد 11 لاکھ سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی بریفنگز میں عالمی برادری سے اپیل جاری ہے، مگر 2026 میں فنڈنگ کا آدھے سے بھی کم رہنا اس بات کی علامت ہے کہ غزہ عالمی توجہ سے محروم ہو رہا ہے۔ آنے والے مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ بحران قابو میں آتا ہے یا مزید بگڑتا ہے۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں