سربیا میں ووٹنگ: طلبہ تحریک کا ووچک کو ہٹانے کا چیلنج

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

بلغراد — سربیا میں اتوار کو قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کی ووٹنگ ہو رہی ہے جس میں ملک کے دیرینہ مقبول رہنما الیگزینڈر ووچک کا مقابلہ دو سال پہلے ایک حادثے سے جنم لینے والی طلبہ تحریک سے ہے۔ رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق رائے شماری کے ادارے سخت مقابلے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

پولنگ اسٹیشن صبح سات بجے کھلے اور رات آٹھ بجے مقامی وقت کے مطابق بند ہوں گے، اور نتیجے کے پہلے اشارے اس کے تقریبا دو گھنٹے بعد متوقع ہیں۔ جمعرات کو شائع ہونے والے اپسوس سروے میں ووچک کی سربین پروگریسو پارٹی کو 47 فیصد اور طلبہ کی فہرست کو 40 فیصد حمایت ملی، اگرچہ بعض دیگر سروے میں طلبہ آگے دکھائے گئے ہیں۔ جمعرات کو وسطی بلغراد میں طلبہ تحریک کے تقریبا ڈیڑھ لاکھ حامیوں نے ریلی نکالی جو ووٹ سے پہلے طاقت کا آخری مظاہرہ تھا۔

دو سال کے احتجاج کا ووٹ میں امتحان

یہ انتخاب بدعنوانی اور بڑھتی ہوئی آمریت کے خلاف تقریبا دو سال سے جاری طلبہ مظاہروں کا نقطہ عروج ہے۔ ان مظاہروں کا آغاز 2024 میں شمالی شہر نووی ساد میں ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے سے ہوا تھا جس میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ احتجاج 2000 میں سلوبودان میلوشوچ کے زوال کے بعد سربیا کی سب سے بڑی تحریک بن گیا، جس میں طلبہ نے احتساب اور بالآخر نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔ الجزیرہ کے مطابق حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے بڑھنے کے ساتھ جبر بھی بڑھا۔ ووچک اور ان کی جماعت نے جبر، بدعنوانی اور مخالفین کی جاسوسی کے الزامات کی بار بار تردید کی ہے، اور ان کا دعوی ہے کہ طلبہ کو کروشیا اور مونٹی نیگرو کے غیر ملکی ایجنٹ فنڈ دیتے ہیں، جس الزام کی طلبہ تردید کرتے ہیں۔

ووچک، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے پہلے وزیر اعظم اور پھر صدر کے طور پر اقتدار میں ہیں، نے ستمبر میں قبل از وقت انتخاب کا اعلان کیا اور دوبارہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کی خاطر صدارت سے استعفی دے دیا۔ ملکی سطح پر انہوں نے پنشن اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے، ریاستی صحت کے نظام میں سرمایہ کاری اور نوجوان جوڑوں کے لیے مراعات کا وعدہ کیا ہے۔ خارجہ سطح پر انہوں نے چین، جو ایک بڑا سرمایہ کار ہے، اور روس، جو سربیا کا روایتی حلیف اور قدرتی گیس کا بڑا فراہم کنندہ ہے، سے قربت میں توازن رکھا ہے جبکہ یورپی یونین میں شمولیت کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ کئی ووٹر انہیں سربیا کو معاشی گمنامی سے نکالنے اور شاہراہیں، ریلوے، اسکول اور اسپتال بنانے کا سہرا دیتے ہیں۔

سربیا سے آگے اہمیت

رائٹرز کے مطابق طلبہ کی جیت تقریبا ساٹھ لاکھ آبادی کے اس بلقانی ملک میں گہری سیاسی تبدیلی ہوگی، جو اپریل میں ہنگری کے وکٹر اوربان کی شکست کی یاد دلائے گی، اور یورپ کی دیگر طلبہ تحریکوں کے لیے ایک نمونہ بن سکتی ہے جو حالیہ ہفتوں میں تعلیمی معیار اور امکانات کی کمی کے خلاف سڑکوں پر آئی ہیں۔ اس کے برعکس ووچک کی جیت یہ ثابت کرے گی کہ ریاستی وسائل اور بیشتر میڈیا پر قابو رکھنے والا حکمران ووٹ کے مرحلے میں آنے کے بعد بہت بڑی احتجاجی تحریک کے باوجود بھی قائم رہ سکتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

پولنگ ختم ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر پہلے اشارے متوقع ہیں۔ دونوں فریقوں نے سخت گنتی کی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں، اور گنتی کی ساکھ، اس ملک میں جہاں انتخابی مبصرین پچھلے ادوار میں خدشات اٹھا چکے ہیں، یہ طے کرے گی کہ نتیجہ دو سالہ تصادم کو ختم کرتا ہے یا اسے دوبارہ سڑکوں پر لے جاتا ہے۔ بہر صورت اتوار کا ووٹ یہ فیصلہ کرے گا کہ سربیا کی احتجاجی نسل میدان میں اپنی تعداد کو پارلیمان میں طاقت میں بدل پاتی ہے یا نہیں۔

ماخذ: رائٹرز، 25 اکتوبر 2026؛ الجزیرہ، 25 اکتوبر 2026۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں