فلاڈیلفیا: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) امریکا اور خدائی خدمتگار تنظیم (کے کے او) امریکا کے نو منتخب عہدیداروں نے فلاڈیلفیا، امریکا میں منعقدہ ایک تقریب میں حلف اٹھایا۔
اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے اے این پی امریکا کے عہدیداروں سے حلف لیا، جبکہ خدائی خدمتگار تنظیم کے سالارِ اعظم انجینئر اعجاز یوسفزئی نے کے کے او امریکا کے عہدیداروں سے حلف لیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ انہیں اس بات کا گہرا دکھ ہے کہ خیبر پختونخوا پانی، تیل، گیس، بجلی، کانوں اور معدنیات کی صورت میں اربوں ڈالر کے قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود ایک ایسا صوبہ ہے جس کے عوام مشکلات کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی دولت یہاں کے لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہے، مگر وہ آج بھی بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "ہمارے صوبے کے تمام قدرتی وسائل یہاں کے عوام کا حق ہیں اور ہم وفاقی حکومت یا دوسرے صوبوں کو اپنا حق چھیننے نہیں دیں گے۔”
ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں بنیادی انسانی حقوق ناپید ہیں۔ "ان اضلاع میں آئین معطل ہے اور ہر ضلع پر ایک ایڈیشنل سیکرٹری کا مکمل کنٹرول ہے۔”

انہوں نے اے این پی امریکا کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی ٹیم پختون قوم کی جدوجہد کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی نے پاکستان میں امن کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ "ہماری جدوجہد پاکستان میں بسنے والے پختونوں کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے ہے۔ ہم پاکستان کے خلاف نہیں ہیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔”
صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ پہلے مسئلے اور تقسیم کی وجوہات کی نشاندہی کی جائے اور توجہ طلب امور پر بات کی جائے۔ "اگر نیت زیادہ پیسے حاصل کرنے کی ہے تو ہم این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کو نظرانداز نہیں ہونے دیں گے۔”
ایمل ولی خان نے پارلیمنٹ میں اپنی تقاریر کی سنسرشپ کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی تقاریر ہمیشہ پی ٹی وی پر براہِ راست دکھائی جاتی ہیں، جبکہ ان کی اپنی تقریر کئی بار میوٹ کی گئی اور اکثر مواقع پر اس کا آدھا حصہ نشر ہی نہیں کیا گیا۔
اے این پی کی خارجہ امور کمیٹی کے سیکرٹری سردار حسین بابک نے اے این پی امریکا کو مبارکباد دی اور پارٹی کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک اے این پی کی تنظیموں سے رابطے کے لیے باچا خان مرکز میں فارن ڈیسک قائم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک رہنے والے پشتونوں کو درپیش کسی بھی مسئلے کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے مختلف فورمز پر اٹھایا جائے گا اور اسے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

انجینئر اعجاز یوسفزئی، اے این پی امریکہ کے صدر ڈاکٹر بشیر محمد اور جنرل سیکرٹری شاہد اقبال یوسفزئی نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔
بعد ازاں موسیقی کا پروگرام ہوا جس میں معروف پشتو گلوکار کرن خان نے سامعین کو اپنے فن سے محظوظ کیا۔
