اے آئی سربراہان کا سلامتی کونسل کو انتباہ، طاقتور نظاموں کے بڑھتے خطرات پر تشویش

اقوام متحدہ — مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنیوں کے سربراہان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ تیزی سے طاقتور ہوتے اے آئی نظام مناسب حفاظتی انتظامات اور عالمی تعاون کے بغیر سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈیریو امودی نے 15 رکنی کونسل سے کہا کہ اگر اے آئی کو ناقص انداز میں سنبھالا گیا تو یہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق متوقع مقررین میں اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمن، اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈیریو امودی، ہگنگ فیس کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی کلیماں ڈیلانگ، اور اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل برائے اے آئی کے شریک چیئر یوشوا بینجیو شامل ہیں۔ چینی اے آئی لیبز ڈیپ سیک اور مون شاٹ کو بھی بیان دینے کی دعوت دی گئی ہے، تاہم ڈیپ سیک کے بانی لیانگ وین فینگ کی شرکت متوقع نہیں۔ یہ ملاقات اے آئی کو براہ راست سلامتی کونسل کے عالمی سلامتی کے ایجنڈے میں لے آتی ہے، جہاں سفارت کار غلط استعمال اور سائبر خطرات سے لے کر زیادہ قابل اور خودمختار ہوتے نظاموں کے وسیع تر نتائج تک ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ اجلاس سلامتی کونسل کی صدارت کے طور پر فرانس نے بلایا ہے اور اس کی صدارت فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو کریں گے۔ یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ پر ایک باقاعدہ اعلیٰ سطحی بریفنگ ہے۔

یہ بریفنگ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے جنرل اسمبلی سے منگل کے الوداعی خطاب کے بعد ہو رہی ہے۔ گوتریس نے اے آئی کے شعبے میں پیش پیش ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ابھرتے حفاظتی خطرات کی معلومات بانٹیں، جانچ اور تشخیص میں تعاون کریں اور معتبر آزاد نگرانی کی پشت پناہی میں مشترکہ حفاظتی انتظامات کی جانب بڑھیں۔

اے آئی ضابطہ کاری کی رفتار اور دائرہ کار پر گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ صنعت کے بعض رہنماؤں اور محققین نے مضبوط حفاظتی انتظامات یا انتہائی جدید نظاموں کی سست ترقی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ حد سے زیادہ سخت قواعد جدت اور مسابقت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو جنرل اسمبلی سے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایسے نئے ضوابط کی مخالف ہے جو ان کے خیال میں اے آئی کی ترقی کو روکیں گے، تاہم انہوں نے کہا کہ محکمہ انصاف اس شعبے کی نگرانی کرے گا اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کر سکتا ہے۔ یہ ریمارکس انتظامیہ کا موقف ظاہر کرتے ہیں اور اے آئی گورننس پر وسیع تر عالمی بحث کا حل نہیں۔

سلامتی کونسل نے 2023 میں پہلی بار باقاعدہ طور پر اے آئی خطرات پر بات کی تھی۔ بدھ کی ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ یہ موضوع کتنی تیزی سے ٹیکنالوجی پالیسی سے نکل کر سفارت کاری اور قومی سلامتی کے مباحث میں داخل ہو گیا ہے۔

اے آئی کی ترقی تیزی سے جغرافیائی سیاسی موضوع بنتی جا رہی ہے — حکومتیں حفاظتی معیارات، فوجی اور سائبر خطرات، معاشی مسابقت اور سنگین اے آئی واقعات کے لیے سرحد پار اطلاع کے نظام کے امکان پر غور کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی یہ ملاقات بذاتِ خود کوئی پابند عالمی اے آئی قواعد وضع نہیں کرتی، لیکن حکومتوں اور ٹیکنالوجی رہنماؤں کو یہ طے کرنے کا ایک اور فورم دیتی ہے کہ عالمی تعاون کہاں ممکن ہے۔

ماخذ: رائٹرز کی 23 ستمبر 2026 کی رپورٹنگ؛ اقوام متحدہ کے ریمارکس اور کارروائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زک نیوز سے رابطہ کریں