نیویارک — امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں ملاقات کی، ایسے وقت میں جب واشنگٹن روس کی یوکرین جنگ کے ممکنہ سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
موقع پر موجود میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات بند کمرے میں شروع ہوئی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس ملاقات کو بدھ کی صبح کے لیے شیڈول کیا تھا۔ رائٹرز نے ملاقات سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ یوکرین ایک اہم موضوع ہوگا۔ یہ ملاقات یوکرینی صدر ولودیمیر زیلینسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیویارک میں ہونے والی بات چیت کے ایک دن بعد ہوئی ہے۔
زیلینسکی نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ اگر روس یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روک دے تو یوکرین بھی توانائی کے اہداف پر حملے باہمی طور پر روکنے کے لیے تیار ہوگا۔ فی الحال ایسے کسی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔
روبیو-لاوروف ملاقات سے پہلے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس امن مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن ان کے بقول مذاکرات کی طرف بڑھنے کے لیے حالات ابھی سازگار نہیں۔ یہ ماسکو کا موقف ہے؛ کیف قابل قبول شرائط پر مذاکرات کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور زیلینسکی کو صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے لیے ماسکو آنے کی روسی تجویز مسترد کر چکا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟
تازہ ترین: لاوروف سے ملاقات کے بعد روبیو نے کہا کہ روس اور یوکرین دونوں نے اناج اور توانائی سے متعلق اہداف پر ممکنہ محدود جنگ بندی میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا محدود انتظام بھی آسان نہیں ہوگا۔ روس نے اس تجویز پر عوامی طور پر اتفاق نہیں کیا؛ لاوروف نے سلامتی کونسل میں عارضی وقفے کے خلاف موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اسے یوکرین کو دوبارہ مسلح کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ بحیرۂ اسود میں سمندری جنگ بندی کے بارے میں روس کے جواب کا منتظر ہے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے باہمی طور پر روکنے کی حمایت کرتا ہے۔ یہ بیانات محدود کشیدگی میں کمی کے ممکنہ راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن کسی جنگ بندی یا وسیع تر امن معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔
ذرائع: 23 ستمبر 2026 کی رائٹرز رپورٹنگ؛ امریکی محکمہ خارجہ کا شیڈول؛ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مقام سے ہم عصر میڈیا رپورٹنگ۔
