اسلام آباد — پاکستانی انتظامیہ نے بدھ کے روز وفاقی دارالحکومت کے گرد سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور آمدورفت محدود کر دی ہے۔ یہ اقدامات جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کے منصوبہ بند مارچ سے قبل کیے گئے ہیں۔
مظاہرے کا اہتمام خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے کیا ہے، جو ان کی رہائی کے مطالبے کی مہم کا حصہ ہے۔ اسلام آباد کے گرد سیکیورٹی انتظامات سے سفر میں بڑے خلل اور حزب اختلاف و انتظامیہ کے درمیان نئے تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
یہ اقدامات لاہور میں خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی حراست کے بعد کیے گئے ہیں۔ زارک نیوز پہلے خبر دے چکا ہے کہ یہ حراست صوبائی نظمِ عامہ کے اختیارات کے تحت عمل میں آئی۔ پی ٹی آئی نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
رائٹرز نے بدھ کو خبر دی کہ حکام نے شپنگ کنٹینر لگا کر دو بڑی شاہراہیں بند کر دی ہیں اور وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق مارچ سے قبل تقریباً 35 ہزار اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کے سیکڑوں کارکن حراست میں لیے گئے ہیں۔ پاکستانی حکام پابندیوں کی وجہ نظمِ عامہ اور سیکیورٹی کے خدشات بتاتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کرنے والے اقدامات پر تنقید کرتی ہے۔
عمران خان 2022 میں عہدہ چھوڑنے کے بعد سے پاکستان کی سیاسی کشمکش کے مرکز میں ہیں۔ ان کے حامی ان کی رہائی کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ان کے قانونی مقدمات اور پی ٹی آئی سے حکومت کا رویہ پاکستانی سیاست کے شدید متنازع امور ہیں۔
اہم سوالات یہ ہیں کہ آیا مارچ منصوبے کے مطابق ہوگا، حکام اسلام آباد تک رسائی کا انتظام کیسے کریں گے، اور آیا سیکیورٹی اقدامات گرفتاریوں یا جھڑپوں کا باعث بنیں گے۔ حکومت، پی ٹی آئی اور سیکیورٹی حکام کے دعووں کو آزادانہ تصدیق تک منسوب بیانات ہی سمجھنا چاہیے۔
ماخذ: رائٹرز کی 23 ستمبر 2026 کی رپورٹنگ؛ علیمہ خان کی حراست سے متعلق زارک نیوز کی سابقہ رپورٹنگ۔
