امریکہ کا کرپٹو ایکسچینج میکس سی کو بینکوں سے کاٹنے کا اقدام، سولہ اعشاریہ سات ارب ڈالر کے مبینہ غیر قانونی بہاؤ کا معاملہ

واشنگٹن ڈی سی میں امریکی محکمہ خزانہ کی عمارت

واشنگٹن ڈی سی میں امریکی محکمہ خزانہ کی عمارت۔ فن سین محکمہ خزانہ کا ہی ایک ادارہ ہے۔ فائل تصویر۔ تصویر بذریعہ وکی میڈیا کامنز۔

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے چھ نومبر کو کہا کہ اس کے مالی جرائم کے نفاذ کے نیٹ ورک، فن سین، نے ایک حکم جاری کیا ہے جس کے تحت کرپٹو کرنسی ایکسچینج میکس سی کو امریکی بینکاری نظام سے کاٹ دیا جائے گا۔ محکمے کے مطابق یہ ادارہ روسی غیر قانونی مالیات سے جڑے منی لانڈرنگ کے بڑے خدشے والا مالیاتی ادارہ ہے۔

فن سین محکمہ خزانہ کا وہ حصہ ہے جو منی لانڈرنگ کے خلاف کام کرتا ہے۔ یہ حکم روس سے جڑی منی لانڈرنگ کے خلاف بنے قانون کی دفعہ نو ہزار سات سو چودہ کے تحت جاری ہوا۔ آسان الفاظ میں، اس کے دائرے میں آنے والے امریکی مالیاتی ادارے میکس سی کو یا میکس سی سے کوئی رقم منتقل نہیں کر سکیں گے۔ یہ پابندی کرپٹو کرنسی کی منتقلی پر بھی لاگو ہوگی۔

فن سین کے مطابق میکس سی نے مئی دو ہزار اکیس سے مئی دو ہزار چھبیس کے درمیان کم از کم سولہ اعشاریہ سات ارب ڈالر کی ممکنہ غیر قانونی سرگرمی میں سہولت دی۔ محکمہ خزانہ کی عوامی اطلاع میں یہ رقم کم از کم سولہ ارب ڈالر بتائی گئی۔ ادارے نے یہ اعداد اپنے نتائج کے طور پر پیش کیے ہیں۔ یہ حکومتی نتائج اور الزامات ہیں، کمپنی کے خلاف کسی مجرمانہ فیصلے کا نام نہیں۔

حکم میں اس مجموعے کی تفصیل خطرات کے حساب سے دی گئی ہے۔ فن سین کے مطابق میکس سی کا تقریبا ڈیڑھ ارب ڈالر کا تعلق روسی پابندیوں سے بچنے کی کوششوں سے جڑا تھا۔ ایکسچینج نے چالیس سے زائد ایرانی ایکسچینجرز کے ساتھ تقریبا ایک ارب ڈالر کے براہ راست لین دین کیے، اور تقریبا دو ارب ڈالر ایران سے جڑے عناصر یا مشتبہ دہشت گرد گروہوں سے منسلک رہے۔ کم از کم ایک اعشاریہ نو نو ارب ڈالر غیر قانونی سائبر عناصر سے جڑے بتائے گئے، اور رینسم ویئر، فراڈ، ڈارک نیٹ بازاروں اور شمالی کوریا سے جڑی سرگرمیوں کا بھی ذکر ہوا۔

میکس سی گلوبل دو ہزار اٹھارہ میں قائم ہوا اور سیشلز میں رجسٹرڈ ہے۔ محکمہ خزانہ کے ستمبر دو ہزار چھبیس کے اعداد کے مطابق یہ ایکسچینج روزانہ ایک ارب ڈالر سے زائد کی تجارت کرتا تھا اور اس کے پاس تقریبا پانچ ارب ڈالر کے ذخائر تھے۔ اسی بڑے حجم کی وجہ سے چھوٹے قدم کے بجائے مکمل کاٹنا ضروری سمجھا گیا۔

یہ حکم پابندیوں کی فہرست جیسا نہیں ہے اور اس سے میکس سی یا اس کے صارفین کی جائیداد منجمد نہیں ہوتی۔ اس کا اثر محدود مگر سخت ہے: دائرے میں آنے والے امریکی مالیاتی ادارے کمپنی کو یا کمپنی سے رقوم منتقل نہیں کر سکیں گے۔ حکم فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے کے تیس دن بعد نافذ ہوگا۔ سات نومبر تک یہ اشاعت نہیں ہوئی تھی، اور حکم کی کوئی اختتامی تاریخ نہیں ہے۔

میکس سی نے کہا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور ضابطہ ٹیموں کے ساتھ حکم کا جائزہ لے رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے اور صارفین کے اثاثے محفوظ ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے اپنے اندرونی نظام کا آزادانہ جائزہ شروع کر دیا ہے۔

اس اقدام کی اہمیت رسائی سے جڑی ہے۔ جس ایکسچینج کو امریکی بینک خدمات دینے سے انکار کر دیں، اس کے لیے ڈالر تک اور امریکی صارفین تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے، چاہے اس کی جائیداد منجمد نہ بھی ہو۔ اگلا مرحلہ فیڈرل رجسٹر میں اشاعت ہے، جس سے تیس دن کی مہلت شروع ہوگی۔ بینک تعلقات ختم کرنے کی تیاری کریں گے۔

ذرائع: امریکی محکمہ خزانہ کی پریس ریلیز اور فن سین، مالی جرائم کے نفاذ کا نیٹ ورک۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں