پنجاب کے دو ضمنی انتخابات میں پولنگ مکمل، گنتی جاری

گوجرانوالہ اور ساہیوال کی خالی نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے، الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر سمیت چار عہدے داروں کو نوٹسز بھی جاری کر دیے

پنجاب کے دو ضمنی انتخابات میں پولنگ مکمل، گنتی جاری

Illustration: Zark News

پنجاب کے دو حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ اتوار کو مکمل ہو گئی اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ ون اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 203 ساہیوال سکس، چیچہ وطنی، میں پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی۔

این اے 77 میں تقریباً پانچ لاکھ اٹھارہ ہزار ووٹر رجسٹرڈ تھے اور کل 333 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔ اس نشست پر گیارہ امیدوار میدان میں تھے۔ یہ نشست مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی چودھری محمود بشیر ورک کے 11 ستمبر کو انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ مسلم لیگ ن نے ان کے صاحبزادے راشد بشیر ورک کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جبکہ ان کے مرکزی حریف پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے محمد ابراہیم گوجر ہیں۔ اس حلقے میں سخت مقابلے کی توقع تھی۔

جزوی اور غیر سرکاری گنتی کے مطابق این اے 77 کے 333 میں سے 100 پولنگ اسٹیشنوں کے سامنے آنے والے نتائج میں راشد بشیر ورک 12,936 ووٹ لے کر آگے تھے، جبکہ مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار کو 6,471 ووٹ ملے۔ یہ گنتی نامکمل ہے اور حتمی نتائج کا اعلان الیکشن کمیشن ہی کرے گا۔

ادھر پی پی 203 میں تقریباً دو لاکھ اٹھاون ہزار ووٹر رجسٹرڈ تھے، جن میں تقریباً ایک لاکھ بائیس ہزار خواتین بھی شامل ہیں۔ اس حلقے میں 185 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے اور سات امیدوار میدان میں اترے، جن میں چار آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔ یہ نشست مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی چودھری محمد حنیف جٹ کے 17 ستمبر کو انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ پارٹی نے ان کے صاحبزادے محمد اسد حنیف کو ٹکٹ دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو نوٹس جاری کیا۔ کمیشن کے مطابق الزام ہے کہ وزیر نے این اے 77 میں انتخابی مہم چلائی، جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت سرکاری عہدے دار مہم میں حصہ نہیں لے سکتے۔ کمیشن نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر سے رپورٹس طلب کر لیں، وزیر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی اور کہا کہ حتمی فیصلے تک این اے 77 کا نتیجہ روکا جا سکتا ہے۔ اتوار کو کمیشن نے تین مزید عہدے داروں کو بھی نوٹسز جاری کیے۔ ان میں رکن پنجاب اسمبلی قدسیہ بتول، رکن قومی اسمبلی سائرہ افضل تارڑ اور پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و ثقافت شازیہ رضوان شامل ہیں۔ یہ نوٹسز ان اطلاعات کے بعد جاری ہوئے جن کے مطابق ان عہدے داروں نے این اے 77 کے پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا تھا۔ یہ تمام الزامات ہیں، کمیشن نے ابھی کسی کے بھی مجرم ہونے کا فیصلہ نہیں دیا اور اب تک کسی حلقے کا نتیجہ روکا بھی نہیں گیا۔

سیکیورٹی کے لیے دونوں حلقوں میں فوج اور رینجرز تعینات رہے۔ رینجرز دوسرے درجے کی سیکیورٹی ذمہ داری پر تھے، جبکہ فوج کو فوری ردعمل فورس کے طور پر تیار رکھا گیا تھا۔

دونوں حلقوں کے سرکاری اور حتمی نتائج الیکشن کمیشن جاری کرے گا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں