خیبر پختونخوا میں پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے 70 ارب روپے کا منصوبہ تیار

محکمہ داخلہ کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 17 ہزار خالی آسامیاں پُر کی جائیں گی، خصوصی عدالتیں بنیں گی اور کئی شہر سیف سٹی بنائے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا میں پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے 70 ارب روپے کا منصوبہ تیار

Illustration: Zark News

پشاور: خیبر پختونخوا کے عام آدمی کے لیے اس منصوبے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے شہر اور گاؤں میں پولیس کی موجودگی بڑھے گی اور دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ زیادہ تیزی سے ہو سکے گا۔ صوبائی حکومت نے پولیس کو مضبوط بنانے اور افرادی قوت، رقم اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی دور کرنے کے لیے تقریباً 70 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ یہ رقم ابھی جاری یا خرچ نہیں ہوئی، یہ ایک تیار شدہ منصوبہ ہے جس پر عمل آنے والے وقت میں ہو گا۔

منصوبے کے مطابق تقریباً 59 ارب 80 کروڑ روپے پولیس کے بنیادی ڈھانچے پر اور تقریباً 10 ارب 30 کروڑ روپے محکمہ انسداد دہشت گردی یعنی سی ٹی ڈی کے لیے رکھے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی پولیس کا وہ خصوصی شعبہ ہے جو دہشت گردی کے واقعات کی تفتیش کرتا ہے۔ منصوبے میں پولیس کی 17 ہزار خالی آسامیاں پُر کرنا بھی شامل ہے۔ سی ٹی ڈی کی استعداد 12 فیصد سے بڑھا کر 37 فیصد اور پولیس کی مجموعی استعداد 75 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

بریفنگ میں یہ فیصلے بھی بتائے گئے کہ دہشت گردوں کے مقدمات کے لیے بے چہرہ انسداد دہشت گردی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ یہ وہ عدالتیں ہیں جن میں جج اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھی جاتی ہے تاکہ وہ بے خوف اپنا کام کر سکیں۔ کئی شہر سیف سٹی بنائے جائیں گے، 10 اضلاع میں خصوصی مراکز قائم ہوں گے اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز یعنی آئی بی اوز میں تیزی لائی جائے گی۔ صرف دہشت گرد ہی نہیں، ان کے سہولت کار اور مددگار بھی گرفتار کیے جائیں گے۔

یہ تفصیلات پشاور میں محکمہ داخلہ کی ایک بریفنگ میں سامنے آئیں، جس میں امن و امان، دہشت گردی کے خطرات اور پولیس کی استعداد پر بات ہوئی۔ سیکرٹری داخلہ امجد علی خان نے بریفنگ پیش کی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی، مشیران، چیف سیکرٹری، تمام محکموں کے سیکرٹری اور اعلیٰ پولیس افسران موجود تھے۔

بریفنگ سے خطاب میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے وعدہ کیا کہ پولیس کی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کے معاملات پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان پہلے جو خلا تھا وہ اب ختم ہو گیا ہے، اور ماضی میں سکیورٹی فورسز کو وہ سیاسی اور حکومتی حمایت نہیں ملی جس کی انہیں ضرورت تھی۔ گورنر نے کہا کہ دونوں حکومتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ پالیسی رکھیں گی اور سیاسی قیادت اس کی مکمل ذمہ داری لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی بی اوز ناگزیر ہیں اور ان کا کوئی متبادل نہیں، لیکن یہ آپریشن مستند خفیہ معلومات کی بنیاد پر ہی کیے جائیں گے۔

گورنر نے خطاب میں یہ بیان دیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کی سہولت کاری پر انہیں تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ یہ باتیں گورنر نے اپنے بیان کے طور پر کہیں۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں