اسلام آباد — سابق وزیراعظم عمران خان کی قید بہن نورین نیازی کی صحت اس ہفتے سینیٹ میں اختلاف کا موضوع بن گئی۔ حکومت نے کہا کہ علاج کے بعد وہ ٹھیک ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ یہ تفصیل ڈان اخبار کے مطابق ہے۔
70 سالہ نورین نیازی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق جیل کے ڈاکٹروں نے منتقلی کی سفارش کی تھی۔ پی ٹی آئی نے کہا کہ اہل خانہ کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور پارٹی نے مطالبہ کیا کہ انہیں ماہر امراض قلب کی نگرانی میں بہترین علاج ملے۔
منتقلی کی وجہ پر دونوں فریقوں کے بیانات مختلف ہیں۔ پی ٹی آئی کے سینیٹ رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے سینیٹ کو بتایا کہ انہیں بلند فشار خون کی وجہ سے منتقل کیا گیا، فوری علاج ملا، تمام ٹیسٹ نارمل آئے اور وہ ٹھیک ہیں۔ کوئی آزاد طبی رپورٹ شائع نہیں ہوئی، اس لیے دونوں بیانات فریقین کے دعووں کے طور پر سامنے رکھے جا رہے ہیں۔
نورین نیازی 21 ستمبر سے عمران خان کی دیگر بہنوں علیمہ خان اور عظمی خان کے ساتھ پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت زیر حراست ہیں۔ 7 اکتوبر کو ان کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 29 اکتوبر کو کہا کہ غیر سیاسی خواتین کو قید کرنا ملکی روایات کا حصہ نہیں اور ان گرفتاریوں سے تلخی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے تینوں بہنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
الگ سے گوہر علی خان نے عمران خان کی رہائی کے لیے کسی ڈیل یا مذاکرات کی قیاس آرائیوں کو واضح طور پر مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کوئی سودے بازی نہیں کر رہی اور عمران خان اپنے موقف کے خلاف سمجھوتہ قبول کرنے کے بجائے جیل میں رہنا پسند کریں گے۔ ایک اور پارلیمانی پیش رفت میں بلاول بھٹو زرداری نے قائد حزب اختلاف سے کہا کہ وہ عمران خان کی دی گئی اختیار کے تحت پی ٹی آئی ارکان کو قومی اسمبلی کی کمیٹیوں میں واپس بھیجیں۔
عمران خان تین سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں اور ان کی مقبولیت اب بھی وسیع ہے۔ آئندہ توجہ سینیٹ اور بہنوں کی حراست کے جائزے پر رہے گی، جن کی موجودہ مدت نومبر کے شروع تک چلتی ہے۔
