یوکرین امن مذاکرات کی اگلی تاریخ غیر یقینی، کریملن نے وقت کا تعلق مشرق وسطی اور میدان جنگ سے جوڑ دیا

تصویر: مذاکراتی میز پر تین جھنڈے۔

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

ماسکو — کریملن کے خارجہ پالیسی مشیر یوری اوشاکوف نے بدھ کو کہا کہ یوکرین امن مذاکرات کے اگلے دور کا وقت مشرق وسطی کے تنازع اور میدان جنگ کی صورتحال سے جڑا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس بیان سے اگلے مہینے مجوزہ ملاقات پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔

اوشاکوف کے مطابق ماسکو نے ابھی کوئی مخصوص تاریخ تجویز نہیں کی۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بدھ کو کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ابوظہبی میں 6 سے 10 نومبر کے درمیان ملاقات ہوگی۔ رپورٹ میں کسی تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی اور تاخیر کا مطلب یہ نہیں کہ سفارت کاری ختم ہو گئی ہے۔

اوشاکوف نے کہا کہ وقت کا انحصار میدان جنگ اور مجموعی صورتحال پر بھی ہوگا اور انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے علاقائی اثرات کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دور میں یورپی مذاکرات کاروں کی شمولیت پر کوئی بات نہیں ہوئی، حالانکہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ یورپ کو کردار ملے گا۔ ان کے بقول ابھی صرف روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مشاورت دوبارہ شروع کرنے کا اتفاق ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکہ ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے مذاکرات آگے بڑھانے کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے اور یورپی ممالک، جو یوکرین کے قریب ترین اتحادی اور سب سے بڑے فوجی حامی ہیں، بڑی حد تک کنارے پر ہیں۔ پچھلے ادوار علاقے اور سکیورٹی ضمانتوں جیسے بنیادی اختلافات پر رکے رہے ہیں۔

ایک الگ محدود پیش رفت میں مقبوضہ شہر اولیشکی میں امداد کی فراہمی کے لیے قلیل مدتی انسانی جنگ بندی کی اطلاعات آئیں۔ یہ مقامی جنگ بندی کسی قومی امن معاہدے سے الگ ہے اور دوسری جگہوں پر لڑائی جاری رہی۔

آئندہ کا انحصار تاریخ کے فیصلے پر ہے۔ اگر واشنگٹن ابوظہبی ملاقات کی تصدیق کرتا ہے تو یہ مہینوں بعد پہلا سہ فریقی دور ہوگا۔ بصورت دیگر رسمی اجلاس کے بغیر مشاورت جاری رہنے کی توقع ہے۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں