اسٹیٹ بینک نے شرح سود 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دی

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے سے بگڑتے ہوئے مہنگائی کے منظرنامے کے پیش نظر اپریل کے بعد پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کر دیا، فیصلے کے حق میں دس میں سے نو ارکان نے ووٹ دیا اور نئی شرح 27 اکتوبر سے لاگو ہو گی۔

کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے صدر دفتر کی عمارت

کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی عمارت۔ (تصویر: مریم آفتاب، سی سی بائی ایس اے 4.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز)

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کو کلیدی پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دیا۔ یہ اپریل کے بعد شرح سود میں پہلا اضافہ ہے، کیونکہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شدت اختیار کرتے مشرق وسطیٰ کے تنازعے اور مسلسل بلند عالمی توانائی قیمتوں سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے خطرات پر قابو پانے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی شرح 27 اکتوبر سے لاگو ہو گی۔ مرکزی بینک کے مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق کمیٹی کے دس میں سے نو ارکان نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ جاری جغرافیائی سیاسی بحران، بشمول امریکا ایران تنازعے، اور مشرق وسطیٰ کی دیگر پیش رفتوں کی وجہ سے مہنگائی کا منظرنامہ نمایاں طور پر بگڑ گیا ہے۔ انہوں نے تیل کی قیمتوں کا 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنا اور گزشتہ دو تین ماہ میں مقامی سطح پر گندم کی قیمتوں میں اضافے کو فیصلے کی وجوہات میں شامل کیا۔

اپنے بیان میں کمیٹی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں شدت اور اس کے جلد خاتمے کے کم امکانات نے پاکستان کے مہنگائی کے منظرنامے کو گزشتہ جائزے کے مقابلے میں خراب کر دیا ہے۔ بیان کے مطابق اگرچہ عالمی سپلائی جھٹکے کے ملکی معیشت پر اثرات اب تک محدود رہے ہیں، تاہم کمیٹی نے شرح سود میں اضافہ ضروری سمجھا تاکہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھا جا سکے، سپلائی جھٹکے کے دوسرے مرحلے کے اثرات کو روکا جا سکے اور درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر لایا جا سکے۔ کمیٹی کے مطابق بیرونی کھاتے اور نمو کا منظرنامہ مجموعی طور پر تبدیل نہیں ہوا، البتہ خطرات بڑھ گئے ہیں، اور مالی سال 2026،27 کے لیے حقیقی جی ڈی پی نمو کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد برقرار رکھا گیا ہے۔

ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو کمیٹی کی توقعات سے زیادہ تھی، جبکہ اگست میں یہ شرح 11.1 فیصد تھی۔ بنیادی مہنگائی بھی تقریباً 8.4 فیصد کی بلند سطح پر برقرار ہے اور مہنگائی اب مسلسل سات ماہ سے مرکزی بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے اوپر چل رہی ہے۔ کمیٹی نے جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی کے نرخوں میں ممکنہ ردوبدل، گندم کی قیمتوں میں مزید اضافے اور ناموافق موسمی حالات کو ان خطرات میں شامل کیا جو قیمتوں کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

پیر کا فیصلہ اس سال اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں دوسرا اضافہ ہے۔ اس سے قبل اپریل میں 100 بیسس پوائنٹس کے اضافے سے شرح 11.5 فیصد کی گئی تھی، جس کے بعد جون، جولائی اور ستمبر کے اجلاسوں میں شرح برقرار رکھی گئی۔ یہ فیصلہ بڑی حد تک مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا: ڈان کی جانب سے اجلاس سے قبل کیے گئے جائزے میں زیادہ تر مالی ماہرین نے 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے اصلاحاتی پروگرام پر عمل کر رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق فنڈ نے اس ماہ پاکستان پر زور دیا تھا کہ مہنگائی کو پائیدار بنیادوں پر ہدف تک واپس لانے کے لیے مانیٹری پالیسی کافی سخت رکھی جائے، اور 7 اکتوبر کو طے پانے والا اسٹاف سطح کا معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

کاروباری حلقوں کی جانب سے فیصلے پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے اضافے کی شدید مذمت کی اور اس کے صدر عاطف اکرام شیخ نے 12 فیصد شرح کو خطے کے مقابلے میں غیر مسابقتی اور نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلند شرح سود نے قرض گیری کو ناقابل برداشت بوجھ بنا دیا ہے، جس سے کاروبار قیمتوں میں استحکام لائے بغیر بند ہونے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مہنگائی طلب کے دباؤ کے بجائے سپلائی کی رکاوٹوں اور توانائی کی لاگت کی وجہ سے ہے، اور اسٹیٹ بینک سے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کیا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں