برازیل میں سخت صدارتی مقابلہ: لولا اور فلاویو بولسونارو کے درمیان دوسرے مرحلے کی ووٹنگ

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

ساؤ پالو — برازیل میں اتوار کو صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ ہو رہی ہے جس کے بارے میں رائے شماری کے ادارے کہتے ہیں کہ نتیجے کی پیش گوئی ممکن نہیں۔ ووٹر بائیں بازو کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا، جو چوتھی مدت کے خواہاں ہیں، اور دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو کے درمیان انتخاب کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق فلاویو کی جیت لاطینی امریکہ کے سب سے بڑے ملک کو تیزی سے دائیں جانب اور امریکہ کے قریب لے جائے گی۔

ہفتے کو جاری ہونے والے سی این ٹی، ایم ڈی اے سروے میں فلاویو بولسونارو کو 46.3 فیصد اور لولا کو 45 فیصد حمایت ملی، اور یہ فرق سروے کی 2.2 فیصد کی گنجائش خطا کے اندر ہے۔ یہ سروے 21 سے 23 اکتوبر کے دوران 2032 افراد سے کیا گیا۔ ایک ہفتہ پہلے اسی سلسلے میں بولسونارو 46.8 اور لولا 45.9 پر تھے، یعنی مقابلہ تقریبا جوں کا توں ہے اور اتوار کا نتیجہ ووٹر ٹرن آؤٹ اور آخری دنوں تک غیر فیصلہ کن رہنے والے ووٹروں پر منحصر ہوگا۔

پہلے مرحلے کا غیر متوقع نتیجہ

45 سالہ فلاویو بولسونارو سابق صدر جائیر بولسونارو کے بڑے بیٹے ہیں اور انہوں نے اکتوبر کے آغاز میں رائے شماری کے اداروں کی پیش گوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں سبقت حاصل کر کے بڑا اپ سیٹ کیا تھا۔ ان کی مہم کی شکل ان کے والد کی قسمت سے جڑی ہے۔ جائیر بولسونارو کو 2025 میں 2022 کا انتخاب ہارنے کے بعد بغاوت کی سازش کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی، اور فلاویو نے وعدہ کیا ہے کہ منتخب ہوئے تو والد کو رہا کریں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مقدمے کو فرضی مہم قرار دیا اور 2025 میں اس فیصلے سے براہ راست جوڑتے ہوئے برازیل پر 50 فیصد محصولات لگا دیے۔ رائٹرز کے مطابق ان میں سے کئی بعد میں نرم کر دیے گئے لیکن واشنگٹن نے اس سال غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا حوالہ دے کر نئے محصولات لگا دیے۔

لولا نے ٹرمپ انتظامیہ کی بولسونارو خاندان سے قربت کو انتخاب پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا ہے اور محصولات کو غنڈہ گردی کہا ہے، جبکہ واشنگٹن ووٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تردید کرتا ہے۔ غیر ملکی مداخلت کا یہ الزام اس مہم میں نمایاں رہا ہے جس میں کرپشن اسکینڈل اور معاشی پریشانی بھی چھائی رہی۔

ووٹر کن باتوں کا جائزہ لے رہے ہیں

معیشت کے معاملے میں لولا اپنی مدت میں عدم مساوات اور بے روزگاری میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن رائٹرز کے مطابق بلند مہنگائی اور گھریلو قرضوں کے بوجھ تلے دبے ووٹروں کو قائل کرنے میں انہیں دشواری ہوئی ہے۔ ملک میں گینگز کے تشدد کا پھیلاؤ بھی ووٹروں کے ذہنوں پر بھاری ہے۔ بولسونارو کی جیت لاطینی امریکہ میں ٹرمپ کے دوست دائیں بازو کے امیدواروں کی فتوحات کے سلسلے کو آگے بڑھائے گی، جبکہ لولا کی چوتھی مدت، جو پہلے 2003 سے 2010 تک صدر رہے اور 2023 میں واپس آئے، واشنگٹن میں ایک سرزنش کے طور پر دیکھی جائے گی۔

آگے کیا ہوگا

برازیل میں ملک بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ ہوتی ہے اور اتوار کی شام پولنگ ختم ہوتے ہی نتائج عموما تیزی سے گنے جاتے ہیں، اس لیے چند گھنٹوں میں فاتح کا اعلان ہو سکتا ہے۔ فرق اتنا کم ہونے کی وجہ سے دونوں مہمات گنتی کی سخت نگرانی کریں گی، اور ہارنے والے فریق کا ردعمل، خاص طور پر اس ملک میں جہاں 2022 کے نتیجے کے بعد اداروں پر حملہ ہوا تھا، اعداد کی طرح ہی غور سے دیکھا جائے گا۔ فاتح یکم جنوری کو عہدہ سنبھالے گا اور اسے خطے کی سب سے بڑی معیشت، ایک منقسم کانگریس اور امریکہ کے ساتھ تجارتی لڑائی ورثے میں ملے گی جسے اتوار کا ووٹ یا تو گہرا کرے گا یا ختم کرنا شروع کرے گا۔

ماخذ: رائٹرز، 24 اکتوبر 2026؛ رائٹرز، 25 اکتوبر 2026۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں