صنعاء: عالمی ادارہ صحت نے پیر کو کہا ہے کہ یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان دو ماہ قبل لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے آٹھ سو سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی یا بے گھر ہو چکے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ادارے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگست کے آغاز سے اب تک 838 افراد ہلاک، تین ہزار سے زائد زخمی اور دسیوں ہزار بے گھر ہوئے ہیں۔ یہ لڑائی چار سال کے نسبتاً امن کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اعداد و شمار میں شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان فرق نہیں کیا گیا۔
یہ اعداد و شمار اس لڑائی کے نقصانات کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں جس نے امریکہ اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کا دوسرا محاذ کھول دیا ہے۔
حوثیوں نے سعودی عرب پر یمن میں سیکڑوں فضائی حملے کرنے کا الزام لگایا ہے جسے سعودی حکام نے بڑی حد تک تسلیم نہیں کیا۔ حوثیوں کے زیر انتظام وزارت صحت نے کہا کہ اتوار کو تعز کے ایک بازار پر سعودی فضائی حملے میں سات افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوئے۔
ادارے کے مطابق جنگ کی واپسی نے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یمنی اسپتالوں میں زخمیوں کے کیسز زچگی کی مریضوں کی جگہ لے رہے ہیں جبکہ اپنے گھر چھوڑنے والے خاندانوں کو صاف پانی کی تلاش میں ہیضے کا خطرہ درپیش ہے۔
یمن کی خانہ جنگی 2014 میں شروع ہوئی تھی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے شمال مغربی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ 2022 کی جنگ بندی نے نازک امن قائم کیا تھا مگر حالیہ مہینوں میں یہ ختم ہو گیا ہے کیونکہ حوثی کئی محاذوں پر سعودی اتحادی افواج سے علاقے کے لیے لڑ رہے ہیں۔
اسی دوران وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب نے ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصان کی مرمت کے بعد ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے تیل کی برآمد دوبارہ شروع کر دی ہے۔
