واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے پیر کو سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وفاقی جیلوں کو ٹرانسجینڈر قیدیوں کی صنفی تبدیلی کی طبی سہولت پر پابندی نافذ کرنے کی اجازت دی جائے، جس سے ایک اور ثقافتی جنگ کا معاملہ عدالت عظمیٰ کے تیز رفتار دائرہ کار میں آ گیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس اور سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ ہنگامی اپیل اس وقت سامنے آئی ہے جب دو نچلی عدالتوں نے بیورو آف پرزنز کی پالیسی پر عملدرآمد روک دیا تھا۔
یہ پالیسی ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے آغاز میں نافذ ہوئی تھی۔ اس کے تحت صنفی بے چینی کے شکار قیدیوں کو نفسیاتی علاج اور ماہر نفسیات کی خدمات تو مل سکتی ہیں مگر ہارمون تھراپی، سرجری یا وگ اور میک اپ جیسی سماجی سہولتیں نہیں مل سکتیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ پالیسی ایک صدارتی حکم کے بعد اپنائی گئی جس میں بیورو آف پرزنز کو اپنی طبی سہولت کی پالیسیاں اس طرح نظر ثانی کرنے کا حکم دیا گیا تھا کہ وفاقی فنڈز قیدی کی ظاہری شکل کو مخالف جنس کے مطابق بنانے کے مقصد کے لیے خرچ نہ ہوں۔
امریکی ضلعی جج رائس لیمبرتھ نے حکومت کو ہارمون تھراپی سمیت صنفی تبدیلی کی طبی سہولت جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔ صدر رونالڈ ریگن کے نامزد کردہ اس جج نے قرار دیا کہ بیورو نے اس بات کا انکار نہیں کیا کہ صنفی بے چینی ڈپریشن، بے چینی اور خودکشی کے خیالات سمیت سنگین اثرات پیدا کر سکتی ہے۔
ڈی سی سرکٹ نے اس ماہ کے آغاز میں قرار دیا کہ انتظامیہ کی پالیسی ممکنہ طور پر من مانی اور بے ضابطہ تھی کیونکہ بیورو آف پرزنز نے اپنی سابقہ پالیسی کے تحت صنفی تبدیلی کی سہولت فراہم کرنے کے اپنے تجربے پر مناسب طور پر غور نہیں کیا۔
محکمہ انصاف نے سپریم کورٹ میں اپنی ہنگامی اپیل میں کہا کہ عوامی مفاد مدعا علیہان کے کسی بھی ناقابل تلافی نقصان سے کہیں زیادہ ہے۔ 2026 کی پالیسی صنفی بے چینی کا مناسب اور انفرادی علاج فراہم کرتی ہے اور صرف وہ طبی مداخلتیں روکتی ہے جو طبی طور پر غیر ضروری ہیں۔
ادارے نے 2025 میں بتایا تھا کہ وہ چھ سو سے زائد قیدیوں کو ہارمون تھراپی فراہم کر رہا تھا۔ قیدیوں کی نمائندگی کرنے والے امریکی شہری آزادی یونین کے وکلا نے کہا کہ یہ پالیسی وفاقی حراست میں ٹرانسجینڈر افراد کی فلاح کے لیے براہ راست خطرہ ہے اور ظالمانہ اور غیر معمولی سزا کے مترادف ہے۔
