سندھ میں ریبیز سے اموات کم از کم 42 تک پہنچ گئیں، ڈاکٹروں کا روک تھام کے نظام پر سوال

سندھ میں اس سال ریبیز سے کم از کم 42 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جو گزشتہ سال کی مجموعی تعداد سے تقریباً دوگنا ہے، جبکہ کتے کے کاٹنے کے دو لاکھ سے زائد کیسز اسپتالوں پر بوجھ بن چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخموں کا معائنہ نہ ہونا، ویکسین کے ساتھ امیونوگلوبیولن نہ دینا اور کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے پروگرام کی سست روی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

سندھ کی ایک گلی میں واقع کلینک، قریب سائے میں آرام کرتے آوارہ کتے اور ویکسین کا کولڈ باکس اٹھائے ایک ہیلتھ ورکر کی تصویر

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔ —

ڈان کی جانب سے اسپتالوں کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں اس سال ریبیز سے کم از کم 42 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جو 2025 کی مجموعی تعداد سے تقریباً دوگنا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس سے بچاؤ ممکن ہے، مگر نظام کی ناکامی ہر مرحلے پر مریضوں کی جان لے رہی ہے۔

پیر کے روز مزید دو مریض دم توڑ گئے۔ حیدرآباد کے 38 سالہ جاوید کراچی کے جناح اسپتال میں انتقال کر گئے، انہیں چار ماہ قبل چہرے پر کتے نے کاٹا تھا۔ نواب شاہ سے لائے گئے 52 سالہ اللہ آباد لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد میں جاں بحق ہوئے۔ ان اموات کے بعد اس سال کا عدد کم از کم 42 ہو گیا ہے، جو صوبے کے بڑے اسپتالوں کے ریکارڈ سے مرتب کیا گیا ہے۔ مختلف اداروں کے اعداد میں فرق ہے اور کوئی ایک اتھارٹی حتمی مجموعی تعداد شائع نہیں کرتی، تاہم ہر پیمانہ ایک ہی سمت اشارہ کرتا ہے: صوبائی محکمہ صحت کے اعداد کے مطابق 2026 کے پہلے نو ماہ میں کتے کے کاٹنے کے دو لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق 2025 میں سندھ بھر میں یہ تعداد 2 لاکھ 85 ہزار تھی، جبکہ حیدرآباد کے اسپتالوں میں اس سال کاٹنے کے مریضوں کی تعداد گزشتہ سال سے 63 فیصد زیادہ رہی۔

ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ہوتی ہے، لیکن علامات سے پہلے اس سے بچاؤ تقریباً ہمیشہ ممکن ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس سال کے کیسز میں سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں سے کئی نے علاج کرایا بھی تھا۔

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی 17 سالہ طالبہ بازلہ کو گھر کے باہر بیڈمنٹن کھیلتے ہوئے ایک آوارہ کتے نے انگوٹھے پر کاٹ لیا۔ اس کے اہل خانہ اسے فوراً اورنگی کے سرکاری اسپتال لے گئے، جہاں دوا موجود نہیں تھی۔ ناظم آباد کے ایک نجی اسپتال میں عملے نے وہ علاج دیا جو خاندان کو خود خریدنا پڑا اور کہا کہ دوبارہ آنے کی ضرورت نہیں۔ بازلہ جاں بحق ہو گئی۔ اس کے بڑے بھائی علیان نے ڈان کو بتایا: "ہم نے آج اپنی بہن کو دفنایا ہے۔ ہم اب بھی صدمے میں ہیں اور اس بات پر مایوس ہیں کہ سرکاری اسپتال فوری لے جانے کے باوجود ہم اس کی جان نہ بچا سکے۔”

جولائی اور اگست میں تین ہفتوں کے دوران پانچ اموات کے سرکاری جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ زخموں کا درست معائنہ نہیں کیا گیا، شدید کاٹنے کے کیسز میں ضروری امیونوگلوبیولن کے بغیر ویکسین دی گئی، اور بنیادی پروٹوکول کی خلاف ورزیاں ہوئیں، جن میں ایک بڑے اسپتال میں بچے کے سر کے زخم کا معائنہ نہ ہونا بھی شامل ہے۔ چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے سات ہیلتھ ورکرز کو معطل کر کے سات اسپتالوں کے سربراہان سے وضاحت طلب کی۔ ویکسین لگنے کے باوجود جاں بحق ہونے والے چھ افراد کے کیسز کی تحقیقات جاری ہیں، جن میں تھرپارکر کے علاقے ڈیپلو کے 38 سالہ نعمت اللہ بھی شامل ہیں، جنہیں مقامی اسپتال میں ویکسین کی چار خوراکیں دی گئیں لیکن ڈاکٹروں کے مطابق ان کے اصل زخم کی درست صفائی ہی نہیں کی گئی تھی۔ اس سال کی پہلی ہلاکت جنوری میں ہوئی تھی، جب سانگھڑ کے علاقے جھول کی آٹھ سالہ بچی کئی سرکاری مراکز میں نامکمل علاج اور امیونوگلوبیولن نہ ملنے کے بعد دم توڑ گئی۔

کتوں کی آبادی پر قابو پانے کی کوششیں بھی رفتار نہیں پکڑ سکیں۔ ریبیز کنٹرول پروگرام سندھ پر 96 کروڑ 30 لاکھ روپے لاگت آئی، لیکن اکتوبر 2025 تک اس کے بجٹ کا صرف 31 فیصد استعمال ہوا، اور اس دوران صرف 19 ہزار 449 کتوں کی نس بندی اور 30 ہزار 729 کو ویکسین لگائی جا سکی، جو عالمی ادارہ صحت کے اس ہدف سے کہیں کم ہے کہ وبا کا سلسلہ توڑنے کے لیے کتوں کی 70 فیصد آبادی کو ویکسین لگائی جائے۔ انڈس اسپتال کی ایک تحقیق، جس کا حوالہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے دیا، کراچی میں کتے کے کاٹنے کے زخموں کے 64 فیصد نمونوں میں ریبیز وائرس پایا گیا، جو ڈاکٹروں کے مطابق اس بات کی علامت ہے کہ شہر کے آوارہ کتوں میں وائرس کس قدر پھیلا ہوا ہے۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے 278 اینٹی ریبیز یونٹس کو عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا ہے، ویکسین کی ایک لاکھ 38 ہزار خوراکیں اور امیونوگلوبیولن کی تقریباً پانچ ہزار خوراکیں دی ہیں، اور کیسز و اسٹاک کی نگرانی کے لیے آن لائن ڈیش بورڈ اور 1122 ہیلپ لائن شروع کی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسمبلی طہ احمد خان نے یوم ریبیز پر الزام لگایا کہ کئی سرکاری اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین تاحال دستیاب نہیں اور مطالبہ کیا کہ یہ ہر سرکاری اسپتال میں مفت فراہم کی جائے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے صدر ڈاکٹر مرزا علی اظہر کا موقف ہے کہ اب ترجیح آوارہ کتوں کو سڑکوں سے ہٹا کر پناہ گاہوں میں منتقل کرنا ہونی چاہیے، جبکہ سرکاری پروگرام اور جانوروں کی فلاح کی تنظیمیں پکڑ کر نس بندی، ویکسین اور واپس چھوڑنے کی پالیسی کی حامی ہیں۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کہہ چکے ہیں کہ نس بندی کی پالیسی سے مطلوبہ نتائج نہیں ملے اور آئندہ کا فیصلہ سٹی کونسل کرے گی۔

آئندہ کا تعین بجٹوں اور اسپتالوں کے ایمرجنسی کمروں میں ہوگا۔ انڈس اسپتال اور جناح اسپتال کے ڈاکٹر، جہاں ہر سال دسیوں ہزار مریض علاج کے لیے آتے ہیں، کہتے ہیں کہ سستے ترین حل وہی پرانے ہیں: ہر زخم کو دھوئیں، اس کا معائنہ کریں، ویکسین کا کورس مکمل کریں، اور شدید کاٹنے پر امیونوگلوبیولن دیں۔

اگر کتا کاٹ لے تو زخم کو صابن اور بہتے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھوئیں، مرچ، تیل یا ٹوٹکے نہ لگائیں، اور اسی دن اسپتال جائیں۔ کاٹنے کے بعد ریبیز سے بچاؤ ممکن ہے، لیکن صرف علامات ظاہر ہونے سے پہلے۔

ذرائع: ڈان، 20 اکتوبر 2026؛ دی نیوز، 29 اگست 2026 (معطلیاں) اور "ریبیز: ایک عالمی مہلک خطرہ” (حکومتی ردعمل)؛ میڈیکل نیوز پاکستان، 16 ستمبر 2026 (پی ایم اے بریفنگ)؛ پارٹیکل نیوز، 28 ستمبر 2026 (صوبائی اعداد)؛ عالمی ادارہ صحت کی ریبیز رہنمائی۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں