نیویارک — جمعرات کو ایشیا میں تیل، کمپیوٹر چپ کمپنیوں کے حصص اور ڈالر دباؤ میں رہے جبکہ بیشتر دیگر بازاروں میں تیزی رہی، کیونکہ امریکی ووٹروں نے ڈیموکریٹس کو وسط مدتی انتخابات میں بڑی کامیابیاں دیں، جس سے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھیں، رائٹرز کے مطابق۔
عالمی تیل کی اہم قیمت برینٹ کروڈ راتوں رات تقریباً 9 فیصد گری اور 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، رائٹرز کے مطابق۔ اس ہفتے برینٹ تقریباً 20 فیصد گر چکا ہے۔ اگر یہ جمعہ تک برقرار رہا تو یہ اپریل 2020 کے بعد تیل کی قیمتوں میں سب سے بڑی ہفتہ وار کمی ہوگی۔
سستے تیل سے بازاروں کو سہارا
تیل کی قیمتوں میں تیز کمی نے بھارت، ملائیشیا اور ہانگ کانگ سمیت ایشیا کے کئی بازاروں پر دباؤ کم کیا، رائٹرز کے مطابق۔ توانائی کی کم قیمتوں سے حکومتی بانڈز میں بھی تیزی آئی، شرح سود کم ہوئی اور ڈالر نیچے آیا۔ امریکہ کی بڑی کمپنیوں کا ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1.6 فیصد بڑھا اور یورپی حصص دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچے۔
تاجروں کا اندازہ ہے کہ ڈیموکریٹک کانگریس کا سامنا کرنے والے ٹرمپ، جو توانائی کی بلند قیمتوں سے سیاسی طور پر متاثر ہوئے ہیں، ایران کے ساتھ جنگ بڑھانے کا امکان کم رکھیں گے، رائٹرز کے مطابق۔ ٹرمپ نے بدھ کو تسلیم کیا کہ جنگ نے ان کی جماعت کی شکست میں کردار ادا کیا۔
چپ اور ڈیٹا سینٹر کمپنیاں گریں
ہر حصص میں تیزی نہیں آئی۔ چپ بنانے والی کمپنیاں پھر تیزی سے گریں، جنوبی کوریا کا انڈیکس 4.8 فیصد اور تائیوان کے حصص 2.6 فیصد گرے، کیونکہ سرمایہ کار ڈیٹا سینٹروں پر بھاری خرچ کے مستقبل سے فکرمند ہیں، رائٹرز کے مطابق۔ شمسی توانائی کے حصص سب سے زیادہ بڑھے، جبکہ ڈیٹا سینٹر کمپنیوں کے حصص سخت قوانین کی توقع پر گرے۔
آگے کیا ہوگا
سرمایہ کار واشنگٹن کے متوقع نتیجے کو تعطل کہتے ہیں، یعنی منقسم حکومت جس کے لیے بڑے نئے قوانین بنانا مشکل ہو۔ بہت سے لوگ اسے بازاروں کے لیے مستحکم سمجھتے ہیں۔ اب توجہ بینک آف انگلینڈ کے فیصلے اور اس ماہ کے آخر میں ہونے والی بات چیت پر ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ پڑھیں: رائٹرز رپورٹ
