کینیڈا میں تربیتی مشق کے دوران گھاس کی آگ سے چار فوجی ہلاک، 39 زخمی

کینیڈا میں تربیتی مشق کے دوران گھاس کی آگ سے چار فوجی ہلاک، 39 زخمی

وین رائٹ، البرٹا — کینیڈا کے صوبے البرٹا میں فوجی اڈے پر ہفتے کو براہ راست فائرنگ کی تربیتی مشق کے دوران تیز ہواؤں سے بھڑکنے والی گھاس کی آگ میں چار کینیڈین فوجی ہلاک اور 39 افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے 19 کی حالت تشویشناک ہے۔ رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی ہے۔

وزیر اعظم مارک کارنی نے پیر کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ آگ کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اور ریزرو اہلکار اس وقت تربیتی مشق کر رہے تھے جب تربیتی علاقے میں آگ جل رہی تھی۔ رائٹرز کے مطابق کارنی نے کہا کہ شدید ہواؤں کے باعث آگ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریبا ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اس مقام تک پہنچ گئی جہاں فوجی جمع تھے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے 50 تفتیش کار اس سانحے کی وجوہات جاننے کے لیے موقع پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نقصان پورے ملک کو چھو رہا ہے۔

فوج نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت سارجنٹ مورگن وانگ اور پرائیویٹ شان فیرل، ایڈن گولڈنگ اور ہیڈن لائیک مارک کے طور پر کی ہے، جن کا تعلق ایڈمنٹن میں قائم تھرڈ بٹالین، پرنسز پیٹریشیا کینیڈین لائٹ انفنٹری سے تھا۔ میجر جنرل ویڈ رٹلینڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ تقریبا 84 سے 85 فوجی دستی بم کے رینج اور فرضی دشمن کے ٹھکانوں پر حملے کی مشق والے علاقے میں تقسیم تھے جب آگ دوسرے علاقے میں پھیل گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو آگ کا کئی گھنٹوں سے علم تھا مگر ان کا خیال تھا کہ یہ اتنی قابو میں ہے کہ تربیت جاری رہ سکتی ہے، اس سے پہلے کہ ہواؤں کا رخ اچانک بدل گیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق رٹلینڈ نے کہا کہ آگ ایک کلومیٹر دور تھی جب ہوا بدلی، اور آگ کا 36 سیکنڈ میں ایک کلومیٹر طے کرنا معمول کی بات نہیں ہے۔

البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ 19 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور بہت سے زخمیوں کو ہفتوں اور مہینوں تک خصوصی اور گہری نگہداشت کی ضرورت ہوگی۔ صحت کے حکام کے مطابق زخمیوں میں مستحکم حالت والے مریض بھی شامل ہیں اور کم سنگین زخموں والے بھی۔ حکام کے مطابق ہفتے کو علاقے میں ہواؤں کی رفتار تقریبا 96 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچی، درخت گرے اور آگ آگ روک رکاوٹوں سے آگے بڑھ گئی۔

یہ فوجی لیٹویا روانگی کی تیاری کر رہے تھے، جہاں کینیڈا کی سب سے بڑی بیرون ملک فوجی تعیناتی موجود ہے اور کینیڈین افواج نیٹو کے مشرقی محاذ پر اتحادی افواج کو مضبوط کر رہی ہیں، رائٹرز نے کہا۔ کینیڈا کے بادشاہ چارلس نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اور ملکہ اس واقعے پر شدید صدمے اور دکھ میں ہیں۔ کینیڈین رپورٹوں کے مطابق وفاقی عمارتوں پر پرچم سرنگوں کر دیے گئے۔

اس واقعے کی اہمیت یہ ہے کہ کارنی نے اسے کینیڈا کی سرزمین پر امن کے زمانے میں کینیڈین فوج کے بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ تفتیش کو یہ جواب دینا ہوگا کہ گھاس میں آگ کیسے لگی، اور یہ بھی کہ تربیتی علاقے میں آگ جلتی رہنے کے باوجود گھنٹوں تک براہ راست فائرنگ کی تربیت کیوں جاری رہی۔ فوجی حکام نے کہا ہے کہ اس سوال کا شفاف جائزہ لیا جائے گا۔

آئندہ کیا ہوگا: فوج اور پولیس کی مشترکہ تفتیش جاری ہے، البرٹا کے اسپتالوں میں 39 زخمیوں کا علاج ہو رہا ہے اور تفتیش کاروں کی رپورٹ آنے پر پارلیمنٹ میں اس موضوع پر دوبارہ بات متوقع ہے۔ آگ کی حتمی وجہ ابھی جاری نہیں کی گئی۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں