تھرپارکر کے لوگوں کے لیے اس فیصلے کا مطلب سیدھا ہے۔ جس زمین سے ان کا کھانا آتا تھا وہ خسارے میں چلی گئی ہے، اور جن مویشیوں سے گھر کا خرچ چلتا تھا ان کے لیے گھاس اور چارہ کم پڑ گیا ہے۔ ایسے میں حکومتی مدد اگر وقت پر پہنچے تو بہت سے خاندانوں کو مشکل موسم سے نکلنے میں سہولت مل سکتی ہے۔
ہفتے کے روز کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں تھرپارکر کو خشک سالی سے متاثرہ اور آفت زدہ ضلع قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی ہنگامی بنیادوں پر راحت کے اقدامات شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق ضلع کی تمام سات تحصیلوں میں خشک سالی جیسی صورتحال ہے۔
فصلوں کا نقصان سب سے زیادہ تشویش ناک ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کاشت کی گئی فصلوں کا تقریباً پچاسی سے نوے فیصد حصہ تباہ ہو گیا ہے یا پیداوار کے قابل نہیں رہا۔ محکمہ زراعت توسیع نے بھی نقصان کا اندازہ تقریباً نوے فیصد لگایا ہے۔ میدانی رپورٹوں کے مطابق صرف دس سے پندرہ فیصد فصلیں بچ سکیں۔ کسان کے لیے اس کا مطلب ہے کہ اگلے مہینوں میں بیج، قرض اور گھر کی ضرورتوں کا بوجھ مزید بڑھے گا۔
بارش کے اعداد بھی اس مشکل کی وجہ بتاتے ہیں۔ سات تحصیلوں میں مون سون کے دوران مجموعی بارش ایک سو اکاسی سے دو سو تہتر ملی میٹر کے درمیان رہی، مگر ستمبر میں بارش بہت کم ہوئی اور صرف ایک سے چھتیس ملی میٹر ریکارڈ ہوئی۔ فصلوں کو بڑھنے کے آخری مرحلے میں پانی نہ ملا تو وہ پکنے سے پہلے سوکھ گئیں۔ قدرتی گھاس بھی خشک ہو گئی، جس سے چراگاہیں خالی پڑ گئیں اور مویشیوں کے لیے کھلا چارہ کم ہو گیا۔
تھرپارکر میں مویشی بیشتر گھروں کی آمدن، دودھ اور مشکل وقت کا سہارا ہیں۔ چراگاہیں خشک ہو جائیں اور چارہ کم پڑ جائے تو یہ خاندان سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ مویشیوں کو خطرہ لاحق ہے، اس لیے چارے کے فوری انتظام اور جانوروں کے تحفظ کو راحت کے کام کا حصہ بنایا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو فوری عمل کی ہدایت دی ہے۔ تمام بند آر او پلانٹس کی مرمت اور بحالی ترجیحی بنیاد پر کرنے کو کہا گیا ہے۔ موجودہ آبی ذرائع کی خرابیاں تلاش کر کے انہیں پوری طرح فعال بنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے تاکہ آبادیوں تک پینے کا پانی پہنچ سکے۔ مٹھی کے لیے پائیدار فراہمی کی خاطر نوکوٹ سے مٹھی تک الگ آبی لائن بچھانے کے امکان کا جائزہ لینے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
حکومت نے راحت کا کام بغیر تاخیر شروع کرنے، پینے کے پانی اور ضروری اشیا کی دستیابی یقینی بنانے اور راحت کی کوششوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت بھی کی ہے۔ اب اصل امتحان عملدرآمد کا ہے۔ تھر کے باسیوں کو یہ دیکھنا ہے کہ بند پلانٹ کب چلتے ہیں اور چارہ کب پہنچتا ہے۔
