نئی دہلی: بھارت اور یورپی یونین نے ہورائزن یورپ میں بھارت کی شمولیت کے مذاکرات مکمل کر لیے ہیں۔ یہ اعلان بھارت کی وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی نے سات نومبر دو ہزار چھبیس کو پریس انفارمیشن بیورو کے ذریعے کیا۔ ہورائزن یورپ یورپی یونین کا سب سے بڑا تحقیقی اور اختراعی پروگرام ہے۔
اعلان کے مطابق دونوں فریقوں نے اس بات پر مذاکرات مکمل کیے ہیں کہ بھارت اس پروگرام کا منسلک ملک بنے۔ توقع ہے کہ یہ منسلک حیثیت جنوری دو ہزار ستائیس سے شروع ہوگی۔ تاہم وزارت نے واضح کیا ہے کہ یہ مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ معاہدہ اور اس سے جڑے رسمی طریقہ کار ابھی باقی ہیں، اس لیے بھارت اس وقت پروگرام کا مکمل منسلک رکن نہیں ہے۔ یہ وضاحت اہم ہے، کیونکہ دستخط اور باقی اقدامات مکمل ہونے سے پہلے بھارتی ادارے اس رسائی کو حتمی نہیں سمجھ سکتے۔
ہورائزن یورپ یورپی یونین کا مرکزی تحقیقی پروگرام ہے۔ یہ دو ہزار اکیس سے دو ہزار ستائیس تک جاری ہے اور اس کا بجٹ ترانوے اعشاریہ پانچ ارب یورو ہے۔ آسان الفاظ میں یہ پروگرام تحقیقی ٹیموں کو رقم فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مشکل مشترکہ مسائل کا مطالعہ کریں اور نئے خیالات کو مفید علم اور اوزاروں میں بدلیں۔ اس پروگرام کے تحت صحت، ماحولیاتی تبدیلی، صاف توانائی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خوراک اور ایسے دوسرے شعبوں میں کام کی مالی مدد کی جاتی ہے جہاں کئی ملکوں کو ایک ہی وقت میں ایک جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور جہاں ایک تجربہ گاہ یا ایک ملک کے پاس شاذ و نادر ہی مکمل جواب ہوتا ہے۔
اگر منسلک حیثیت توقع کے مطابق شروع ہو گئی تو بھارتی محققین اور ادارے ہورائزن یورپ کے منصوبوں میں حصہ لے سکیں گے۔ اعلان میں خاص توجہ مشترکہ تحقیق پر ہے، جو پروگرام کے اس حصے کے تحت آتی ہے جسے عالمی چیلنجز کا ستون کہا جاتا ہے۔ مشترکہ تحقیق کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ایک سے زیادہ ملکوں کی ٹیمیں ایک ہی منصوبے پر مل کر کام کریں، کام، معلومات اور نتائج آپس میں بانٹیں۔ کسی بھارتی جامعہ یا تحقیقی ادارے کے لیے اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی بیماری، صاف توانائی کے نظام یا نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی یورپی ٹیم میں شامل ہو، بجائے اس کے کہ صرف مقامی رقم سے اکیلے کام کرے۔
یہ قدم بھارت کے لیے اس لیے اہم ہے کہ آج سائنس شاذ و نادر ہی ایک سرحد کے اندر رہ کر آگے بڑھتی ہے۔ اتنے بڑے پروگرام تک رسائی بھارتی جامعات، سرکاری تحقیقی اداروں اور نئی کاروباری کمپنیوں کو مشترکہ منصوبوں، بڑے تحقیقی نیٹ ورکس اور مشترکہ علم تک پہنچنے کا وسیع راستہ دے گی۔ اس سے بھارتی محققین کو یورپی شراکت داروں کے ساتھ طویل تعلقات بنانے، مشترکہ کام شائع کرنے اور اپنے شعبے میں تحقیق کی سمت طے کرنے والے منصوبوں میں کردار حاصل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ یورپی یونین کے لیے بھارت کی شمولیت دنیا کی سب سے بڑی تحقیقی برادریوں میں سے ایک کا وزن ان مسائل کے حل میں شامل کرے گی جو دونوں فریقوں کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ مذاکرات بھارت اور یورپی یونین کے وسیع تعلقات کا بھی حصہ ہیں۔ دونوں فریق تجارت، ٹیکنالوجی، ماحول اور تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس میں بھی تعاون کرتے ہیں۔ تحقیقی معاہدہ ان دوسرے معاملات کو حل نہیں کرتا اور اسے نہ تجارتی معاہدہ سمجھنا چاہیے اور نہ سیاسی اتحاد۔ یہ دراصل تجربہ گاہوں اور جامعات کے درمیان ایک عملی رشتہ بناتا ہے۔ ایسا رشتہ اکثر ایک حکومت یا ایک بجٹ سے زیادہ دیر قائم رہتا ہے، کیونکہ ایک بار مشترکہ منصوبہ شروع ہو جائے تو محققین مل کر کام جاری رکھتے ہیں اور طلبہ اور عملہ اداروں کے درمیان آنا جانا شروع کر دیتا ہے۔
اگلا مرحلہ رسمی کارروائی ہے اور اعلان میں وقت تو واضح ہے مگر عمل ابھی ادھورا ہے۔ دونوں فریقوں کو ابھی رسمی معاہدہ اور مذاکرات کے اختتام کے بعد آنے والے طریقہ کار مکمل کرنے ہیں۔ ان مراحل کے بعد ہی منسلک حیثیت شروع ہو سکے گی اور اس کے آغاز کے لیے جنوری دو ہزار ستائیس کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ جو بھارتی ادارے منصوبوں میں شامل ہونے کی امید رکھتے ہیں وہ دستخط شدہ متن اور اس رہنمائی کے منتظر ہوں گے کہ وہ کب اور کیسے درخواست دے سکتے ہیں۔ آغاز کی خبر اسی وقت دی جانی چاہیے جب اس کی رسمی تصدیق ہو جائے۔
ذرائع: پریس انفارمیشن بیورو، حکومت بھارت، وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کا اعلان، اور یورپی کمیشن، ہورائزن یورپ۔
