عمران خان کی بہن نورین نیازی کو کوٹ لکھپت جیل سے دل کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا

فائل تصویر: عمران خان 23 جولائی 2019 کو واشنگٹن ڈی سی میں یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں خطاب کر رہے ہیں۔

فائل تصویر: عمران خان، یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس، واشنگٹن ڈی سی، 23 جولائی 2019۔ (زرک نیوز لائبریری)

لاہور — پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کو بدھ کی رات کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کر دیا گیا۔ دی نیوز کے مطابق ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران انہیں سینے میں درد اور دل کی تکلیف ہوئی۔

ان کے وکیل رانا مدثر عمر نے کہا کہ جیل میں انہیں دل کی تکلیف محسوس ہوئی اور جیل کے ڈاکٹروں نے ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی۔ ڈان کے مطابق وہ تقریبا شام ساڑھے سات بجے ہسپتال پہنچیں اور ڈاکٹروں نے ان کے ابتدائی ٹیسٹ شروع کر دیے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان کا بلڈ پریشر زیادہ تھا اور ای سی جی میں معمول سے ہٹ کر تبدیلی پائی گئی، جبکہ خون کے ٹیسٹ باقی ہیں۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے اہل خانہ کو منتقلی کی اطلاع نہیں دی گئی۔ پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نورین نیازی کی عمر 70 سال ہے، ان کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں بہترین علاج دیا جائے، ان کی صحت کی تصدیق شدہ اطلاع فورا اہل خانہ کو دی جائے اور اہل خانہ کو ان سے ملنے دیا جائے۔

جیل کے ایک سینئر افسر نے ڈان کو اس مؤقف سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کو روزمرہ کی چیزیں اور ادویات ملتی ہیں اور تینوں بہنوں کو بھی مل رہی ہیں۔ وکیل کا الزام ہے کہ بہنوں کو ادویات اور ملاقات سے محروم رکھا گیا اور عظمی خان، جو دل کی مریضہ ہیں، کو دوا اس وقت ملی جب ان کے شوہر نے لاہور ہائی کورٹ سے حکم حاصل کیا۔

عمران خان کی تینوں بہنیں مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ تین کے تحت حراست میں ہیں۔ دی نیوز کے مطابق علیمہ خان کو 20 ستمبر اور نورین نیازی اور عظمی خان کو 21 ستمبر کو حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاریاں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد لانگ مارچ سے پہلے ہوئیں، جس کا مطالبہ عمران خان کی رہائی تھا۔ پنجاب حکومت نے بہنوں کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی ہے اور لاہور ہائی کورٹ نے اس توسیع کی رپورٹ دیکھنے کے بعد رہائی کی درخواست نمٹا دی تھی۔

عمران خان تین سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں اور ان کی بہنیں ان کی رہائی کی مہم میں سب سے نمایاں آوازوں میں شامل رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ خیبر پختونخوا کے اندر ہی رک گیا تھا، کیونکہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگا کر جماعت کی صوبائی حکومت ختم کر دی تھی۔ پی ٹی آئی اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کر چکی ہے، جبکہ حکومت اس کا دفاع سکیورٹی بنیادوں پر کرتی ہے۔

جمعرات کی صبح تک نورین نیازی کی حالت پر کوئی سرکاری طبی بیان جاری نہیں ہوا تھا اور یہ واضح نہیں تھا کہ وہ ہسپتال میں رہیں گی یا جیل واپس بھیجی جائیں گی۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اگر ان کی صحت مزید خراب ہوئی تو ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں