کیوبا پر امریکی پابندی ختم کرنے کی قرارداد کو اقوام متحدہ میں حمایت 20 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی، امریکہ نے کیوبا کے سفارت کار کو ملک سے نکال دیا

فائل تصویر: نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہال۔

فائل تصویر: نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہال۔ تصویر بشکریہ وکی میڈیا کامنز۔

اقوام متحدہ — اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کو 34ویں مرتبہ امریکہ سے کیوبا پر عائد معاشی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا، مگر اس قرارداد کو ملنے والی حمایت 20 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی۔ رائٹرز کے مطابق امریکہ کی سفارتی کوششوں سے کئی ممالک نے پہلی بار مخالفت یا غیر حاضری کا راستہ اختیار کیا۔

یو این نیوز کے مطابق قرارداد 130 ووٹوں سے منظور ہوئی، 17 ممالک نے مخالفت کی اور 25 نے ووٹ میں حصہ نہیں لیا۔ گزشتہ سال یہی قرارداد 165 ووٹوں سے منظور ہوئی تھی، صرف سات ممالک نے مخالفت کی تھی اور 12 غیر حاضر رہے تھے۔ جرمنی اور اٹلی ان مغربی ممالک میں شامل تھے جو کئی برسوں میں پہلی بار غیر حاضر رہے۔ یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں ہے اور 60 سال سے زیادہ پرانی یہ پابندی صرف امریکی کانگریس ہی ختم کر سکتی ہے۔

امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے اس تبدیلی کا خیر مقدم کیا۔ رائٹرز کے مطابق انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کوریا اور جرمنی جیسی بڑی معیشتوں سمیت کئی ممالک نے اپنا مؤقف بدلا ہے اور یہ سلسلہ آگے بھی بڑھے گا۔ بحث میں انہوں نے کہا کہ کوئی محاصرہ نہیں ہے اور 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں امریکہ نے کیوبا کو 87 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کیں۔

کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے کہا کہ امریکہ ایک بار پھر تنہا رہ گیا ہے اور یہ پابندی کیوبا کے عوام کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہے۔ بحث کے دوران انہوں نے ایک کاؤنٹر بھی دکھایا جس کے مطابق منگل کو اجلاس شروع ہونے کے بعد سے پابندی کیوبا کو دو کروڑ 29 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا چکی تھی۔ انہوں نے پابندی کو کیوبا کے نظام صحت پر دباؤ کی وجہ بھی قرار دیا، جس کی امریکہ تردید کرتا ہے۔ کیوبا اس وقت توانائی کے شدید بحران سے گزر رہا ہے۔

اس بحث کے دوران ایک سفارتی تنازع بھی پیدا ہوا۔ امریکہ نے کیوبا کے مشن کے فرسٹ سیکرٹری رچرڈ تور دے لا کونسیپسیون کو ملک سے نکال دیا۔ سی این این کے مطابق امریکہ کا الزام ہے کہ منگل کو جنرل اسمبلی میں والٹز اور روڈریگز کے درمیان شور شرابے کے دوران انہوں نے ایک امریکی سفارت کار کو دھکا دیا اور اس پر حملے کی کوشش کی۔ والٹز نے کہا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان کے اخراج کے کاغذات پر دستخط کر دیے ہیں۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ وہ سفارت کار ملک چھوڑ چکا ہے۔ کیوبا نے امریکی الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے۔

کیوبا کی پیش کردہ قرارداد میں 1996 کے ہیلمز برٹن قانون کا بھی ذکر ہے جس کے اثرات دوسرے ممالک کی کمپنیوں اور افراد تک پہنچتے ہیں۔ اس قرارداد کو سب سے زیادہ حمایت 2015 اور 2017 میں ملی تھی جب 191 ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس بار کی کمی سے امریکی قانون نہیں بدلے گا، مگر تین دہائیوں کی تقریبا متفقہ رائے میں یہ پہلی واضح دراڑ ہے۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں