ایمیلیا ایئرہارٹ کی تلاش: سیٹلائٹ میں نظر آنے والی شے جہاز کا ملبہ نہیں نکلی

ایمیلیا ایئرہارٹ کی تلاش: سیٹلائٹ میں نظر آنے والی شے جہاز کا ملبہ نہیں نکلی

نیکومارورو، کیریباتی — ایمیلیا ایئرہارٹ کے کھوئے ہوئے جہاز کی نئی تلاش خالی ہاتھ لوٹی ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ بحر الکاہل کے دور دراز جھیل نما ساحلی پانی میں سیٹلائٹ تصاویر میں نظر آنے والی جہاز جیسی شے غالبا بڑے درختوں کا مجموعہ تھی، جہاز کا ملبہ نہیں۔ سی این این نے خبر دی ہے۔

آرکیالوجیکل لیگسی انسٹیٹیوٹ اور پرڈیو یونیورسٹی کی مشترکہ قیادت میں 17 رکنی مہم 12 اکتوبر کو نیکومارورو جزیرے پہنچی تاکہ تارایا آبجیکٹ نامی اس بصری بے قاعدگی کا جائزہ لے جو پہلی بار 2020 میں سیٹلائٹ تصاویر میں جزیرے کی جھیل میں نظر آئی تھی، پرڈیو یونیورسٹی نے اپنی خبر میں کہا۔ ٹیم نے جزیرے کے قریب سات دن گزارے جن میں چار دن خشکی پر تھے۔ پرڈیو کے مطابق ٹیم کے پہنچنے تک اس شے کا بڑا حصہ ٹوٹ کر بہہ چکا تھا اور صرف ایک انگریزی حرف وائی جیسی شکل کا ٹکڑا باقی رہ گیا تھا جو تصاویر میں دکھائی دینے والے سائز کا محض ایک حصہ تھا، اور باقی ماندہ ٹکڑے کی چمکتی سطح دھات کے بجائے قدرتی کاربونیٹ تہہ نکلی۔

پرڈیو کے جنرل کونسل اور مہم کے رکن اسٹیو شلٹز نے یونیورسٹی کی جاری کردہ ویڈیو میں کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا تھا کہ یہ ایک سائنسی کوشش ہے، ہم نے سائنسی طریقہ کار پر عمل کر کے ایک مفروضے کو آزمایا اور ایک مفروضہ مسترد کر دیا، بدقسمتی سے ہمیں وہ فیصلہ کن ثبوت نہیں مل سکا۔ انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رک پیٹی گریو نے کہا کہ ٹیم نے تارایا آبجیکٹ کی شناخت کا اپنا مقصد حاصل کر لیا، اور ان کا موقف ہے کہ جہاز کے جزیرے پر اترنے کے وسیع تر مفروضے کے شواہد بدستور بہت مضبوط ہیں۔ یہ پیٹی گریو کا اندازہ ہے کہ ایئرہارٹ اور ان کے نیویگیٹر غالبا نیکومارورو پہنچے تھے، یہ ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے۔

ایئرہارٹ اور نیویگیٹر فریڈ نونن 2 جولائی 1937 کو دنیا کے گرد پرواز کی کوشش کے آخری مراحل میں بحر الکاہل پر لاپتا ہو گئے تھے، جب وہ ہاؤلینڈ جزیرے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا لوک ہیڈ الیکٹرا طیارہ، جسے فلائنگ لیبارٹری کہا جاتا تھا، پرڈیو ریسرچ فاؤنڈیشن کی مالی مدد سے بنا تھا اور پرواز مکمل ہونے پر یونیورسٹی کو واپس ملنا تھا۔ اس جہاز کا کوئی مصدقہ ملبہ آج تک نہیں ملا، اور یہ گمشدگی ہوابازی کی تاریخ کے مشہور ترین حل طلب اسرار میں سے ایک ہے۔

نیکومارورو کے مفروضے کے مطابق ایئرہارٹ اور نونن ہاؤلینڈ جزیرہ نہ ملنے پر اس جزیرے کی چٹانی ساحلی پٹی پر اترے اور کچھ عرصہ وہاں پھنسے رہے۔ ماضی کی تحقیقات میں تاریخی ریڈیو ترسیلات اور جزیرے پر ملی اشیا کا جائزہ لیا گیا تھا۔ یو ایس اے ٹوڈے کی نتائج کی رپورٹ کے مطابق اس مہم کو تارایا جزیرہ نما کے قریب جھیل میں تقریبا 30 انچ لمبی اسٹیل ٹیوب سمیت چند اشیا بھی ملیں جن کا مزید تجزیہ کیا جائے گا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ایسی دریافتوں سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ملبہ جھیل میں کیسے بہتا اور کہاں جمع ہوتا ہے۔

اس نتیجے کی اہمیت یہ ہے کہ برسوں میں سب سے پُرکشش سیٹلائٹ سراغ مسترد ہونے سے تلاش کا دائرہ تنگ ہو گیا ہے، اور یہ بھی واضح ہوا کہ سیٹلائٹ کی بے قاعدگیاں کس طرح گمراہ کر سکتی ہیں۔ ریت کے ٹیلے پر جمع درختوں کے ملبے نے وہ شکل اختیار کر لی تھی جس نے پرواز کے تقریبا 90 سال بعد کسی بڑی دریافت کی امید جگائی تھی۔

آئندہ کیا ہوگا: پرڈیو نے کہا ہے کہ تلاش جاری رہے گی اور ملنے والی اشیا کا تجزیہ کیا جائے گا۔ فی الحال تارایا آبجیکٹ مسترد شدہ سراغوں کی طویل فہرست میں شامل ہو گیا ہے، اور ایئرہارٹ اور نونن کی آخری پرواز کا اسرار برقرار ہے۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں