پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا ایمرجنسی کے خلاف قانونی جنگ پشاور ہائی کورٹ میں، سماعت آج شروع

پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا ایمرجنسی کے خلاف قانونی جنگ پشاور ہائی کورٹ میں، سماعت آج شروع

پشاور — پشاور ہائی کورٹ میں منگل کو پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف درخواستوں کی سماعت شروع ہونا طے تھی، جبکہ قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت معطل شدہ صوبائی حکومت کی بحالی کے لیے اپنی قانونی جنگ آگے بڑھا رہی ہے۔

عدالت نے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور ایڈووکیٹ سلمان خان کی الگ الگ درخواستوں کی سماعت کے لیے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی تھی، جن میں وفاق، صدر، وزیر اعظم، صوبائی گورنر اور دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے، عدالتی شیڈول کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے۔ منگل کی سماعت سے پہلے عدالت نے کوئی عبوری ریلیف نہیں دیا تھا۔ منگل کو شائع ہونے والے فائلنگ کے خلاصے کے مطابق پی ٹی آئی نے 19 اکتوبر کو ایک ترمیم شدہ درخواست بھی جمع کرائی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبائی ایمرجنسی کے اعلان سے پہلے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، اور عدالت سے نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا کی گئی۔

اس مقدمے کی ابتدا 11 اکتوبر سے ہوتی ہے، جب صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے اور وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد افغانستان سے متصل شمال مغربی صوبے میں ایمرجنسی کا اعلان کر کے پی ٹی آئی کی قیادت والی حکومت معطل کر دی تھی، رائٹرز نے خبر دی تھی۔ وفاقی حکومت نے کہا کہ صوبہ عسکریت پسندوں کے بڑھتے حملوں سے نمٹنے میں ناکام رہا۔ زرداری کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک مخالف سیاست دان کو صوبے کا نگران بنا دیا گیا اور آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا سہارا لیا گیا۔ رپورٹوں کے مطابق پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے باوجود 14 اور 15 اکتوبر کو ووٹنگ میں ان اعلانات کی توثیق کر دی۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ایک سیاسی قبضے کا بہانہ ہے جس سے جماعت صوبائی بجٹ کے وسائل سے محروم ہو گئی ہے اور اس کے حامیوں کو عمران خان کی رہائی اور علاج کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی طرف مارچ سے روکا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق خان کے قریبی ساتھی ذلفی بخاری نے کہا کہ عمران خان کے بنیادی انسانی حقوق کو دہشت گردی جیسے پیچیدہ مسئلے سے جوڑنا مضحکہ خیز تھا۔ پاکستانی رپورٹوں کے مطابق گوہر نے قومی اسمبلی میں کہا کہ آپ نے ایک منتخب حکومت کو گھر بھیج دیا ہے، ہم آپ کے تمام نوٹیفکیشن مسترد کرتے ہیں، آپ نے جمہوریت پر حملہ کیا ہے۔ ایڈووکیٹ شاہ فیصل الیاس کے ذریعے دائر جماعت کی 86 صفحات پر مشتمل درخواست میں آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کی تعیناتی اور 11 رکنی مشاورتی کونسل کو بھی چیلنج کیا گیا ہے اور عدالت سے اعلان کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ تصادم میدان میں پہلے ہی پرتشدد رخ اختیار کر چکا ہے۔ رائٹرز نے 13 اکتوبر کو خبر دی تھی کہ پولیس نے صوبے میں خان کے حامیوں پر آنسو گیس استعمال کی اور جماعت کے عہدیداروں کے مطابق براہ راست فائرنگ بھی کی۔ صوبائی انتظامیہ نے براہ راست فائرنگ کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے فساد کے جواب میں متوازن کارروائی کی اور تقریبا 50 افراد گرفتار ہوئے۔ رائٹرز نے کہا کہ وہ فوٹیج یا دونوں فریقوں کے متضاد دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ رائٹرز کے مطابق منصوبہ بند مارچ سے پہلے خان کی تینوں بہنوں اور سینکڑوں حامیوں کو گرفتار کیا گیا، اور وفاقی وزیر نے رائٹرز کو تصدیق کی کہ سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کو احتیاطی حراست میں لیا گیا۔

اس سماعت کی اہمیت یہ ہے کہ یہ وفاقی مداخلت کا پہلا عدالتی جائزہ ہے، اور اس میں یہ آزمایا جائے گا کہ منتخب صوبائی حکومت کی معطلی سے پہلے آئین میں درج طریقہ کار پر عمل ہوا تھا یا نہیں۔ یہ سوال صرف پی ٹی آئی کے لیے نہیں، پورے پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے تعلقات کے لیے نتائج رکھتا ہے۔ تجزیہ کار نجم سیٹھی نے رائٹرز کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں پی ٹی آئی دونوں محاذوں پر پیچھے رہی، نہ خان کے لیے کوئی رعایت حاصل کر سکی اور نہ اپنی صوبائی حکومت بچا سکی۔

آئندہ کیا ہوگا: عدالت درخواستوں کے قابل سماعت ہونے اور آئینی سوالات پر دلائل سنے گی اور عبوری ریلیف پر بھی غور کر سکتی ہے۔ منگل کو سماعت شروع ہونے تک کوئی فیصلہ جاری نہیں ہوا تھا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ قانونی، پارلیمانی اور پُرامن احتجاجی دباؤ بیک وقت جاری رکھیں گے۔ یہ ایک بدلتی ہوئی صورت حال ہے اور عدالتی کارروائی آگے بڑھنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں