منیلا — امریکہ نے اتوار کو جنوبی بحیرہ چین میں ایونگین شول کے قریب فلپائن کے سپلائی مشن کے خلاف چینی بحری افواج کی خطرناک رکاوٹوں اور غیر ذمہ دارانہ حربوں کی مذمت کی، جس سے اس تصادم کے سفارتی نتائج مزید بڑھ گئے ہیں جس کے بعد منیلا کو اپنا آپریشن معطل کرنا پڑا تھا۔
فلپائن میں امریکی سفیر لی لپٹن نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنے فلپائنی اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور تحمل کی تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے چین کے کوسٹ گارڈ اور پیپلز لبریشن آرمی نیوی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے حربے ترک کریں جو جہاز رانی کی آزادی اور آزاد و کھلے ہند بحرالکاہل کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
فلپائن کی مسلح افواج کے مطابق یہ تصادم جمعرات کی شام پیش آیا۔ ایک فلپائنی قافلہ، جس میں کوسٹ گارڈ کے جہاز بی آر پی مالابریگو اور بی آر پی کابرا اور سویلین سپلائی کشتی ایم وی لاپو لاپو شامل تھے، ایونگین شول سے تقریبا ساٹھ ناٹیکل میل کے فاصلے پر آٹھ چینی جنگی اور کوسٹ گارڈ جہازوں نے روک لیا۔ یہ قافلہ وہاں زمین میں دھنسی ہوئی بی آر پی سیرا مادری پر تعینات فوجیوں کے لیے خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری سامان پہنچانے اور اہلکاروں کی تبدیلی کے لیے جا رہا تھا۔ فلپائن کوسٹ گارڈ کے مطابق چین کے کوسٹ گارڈ کے ایک جہاز نے ایم وی لاپو لاپو کے خلاف خطرناک حربے اختیار کیے جن سے ٹکر کا خطرہ پیدا ہوا، اور اہلکاروں کی حفاظت کے لیے مشن منسوخ کر دیا گیا۔
منیلا میں چین کے سفارت خانے نے امریکی بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے صحیح اور غلط کی تمیز سے عاری قرار دیا، اور فلپائن کے اقدامات کو اشتعال انگیز اور غیر قانونی کہا۔ بیجنگ جنوبی بحیرہ چین کے تقریبا پورے حصے کا دعویٰ کرتا ہے، جس کے بارے میں دو ہزار سولہ میں ایک بین الاقوامی ٹریبونل فیصلہ دے چکا ہے کہ اس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔
یہ واقعہ اس شول پر فلپائن کے مشنوں میں چینی مداخلت کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جہاں منیلا انیس سو ننانوے سے زمین میں دھنسی بی آر پی سیرا مادری پر ایک چھوٹی فوجی دستہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
