عراق سے امریکی فوجی انخلا مکمل، بارہ سالہ مشن اختتام پذیر

بغداد: امریکی فوج نے عراق سے اپنے دستوں کا انخلا مکمل کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق آخری امریکی فوجی اربیل کے ہوائی اڈے سے روانہ ہوئے جس کے بعد آپریشن انہیرینٹ ریزولو کے بارہ سال کا خاتمہ ہو گیا۔ اس پیش رفت کا اعلان ۳۰ ستمبر کو سامنے آیا۔

انخلا کے موقع پر عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے ایک تقریب میں شرکت کی جس میں سیکیورٹی ذمہ داریوں کی باضابطہ منتقلی عمل میں آئی۔ حالیہ برسوں میں عراق میں تقریباً ۲۵۰۰ امریکی فوجی تعینات تھے جو داعش کے خلاف مہم میں عراقی فورسز کی معاونت کرتے رہے۔ آخری دستوں کی روانگی کے ساتھ عراق میں امریکی جنگی مشن کا باضابطہ خاتمہ ہو گیا ہے۔

اے پی کے مطابق یہ انخلا ایسے وقت میں مکمل ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ خبر رساں ادارے نے اس تناظر کو اپنی رپورٹنگ میں نمایاں کیا ہے۔ اس پس منظر میں انخلا کے فیصلے کو خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

آپریشن انہیرینٹ ریزولو کا آغاز ۲۰۱۴ میں داعش کے خلاف عالمی اتحاد کی مہم کے طور پر ہوا تھا۔ اس بارہ سالہ مہم کے دوران مجموعی طور پر ۴۵۰۰ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد امریکی فوجی تاریخ کے طویل ترین بیرونی مشنوں میں سے ایک کی بھاری انسانی قیمت کو ظاہر کرتی ہے۔

انخلا کے مکمل ہونے کے بعد عراق میں امریکی فوجی موجودگی کا یہ باب بند ہو گیا ہے۔ عراقی فورسز اب ملک کی سیکیورٹی کی مکمل ذمہ دار ہیں۔ یہ پیش رفت مشرق وسطی میں امریکی فوجی حکمت عملی میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زک نیوز سے رابطہ کریں