واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا ہے کہ وہ یونان میں امریکی سفیر کمبرلی گلفوئل کو برطرف کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ بیان ان کے دور اقتدار سے قبل اور ایتھنز میں تعیناتی کے دوران مبینہ بدعنوانی سے متعلق خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے 12 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس سے ایک انتخابی پروگرام کے لیے روانگی کے وقت صحافیوں کے سوال پر کہا کہ ان کی انتظامیہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اور وہ رپورٹ ہونے والی باتوں سے خوش نہیں ہیں۔ یہ اب تک کا واضح ترین اشارہ ہے کہ سفیر کی ملازمت خطرے میں ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو ان خبروں پر ناراض ہیں اور اس ہفتے فیصلہ متوقع ہے۔
الزامات کیا ہیں
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے الزام عائد کیا ہے کہ گلفوئل نے ایک ڈونر سے اپنے کریڈٹ کارڈ کا ایک لاکھ ڈالر کا بل ادا کرنے کو کہا تھا اور یونانی کاروباری افراد ان کے سفری اخراجات اٹھا رہے تھے۔ اخبار نے تحائف اور خدمات سے متعلق سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
گلفوئل کے وکیل نے ان سے منسوب پیغامات کی صداقت کو متنازع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں سابقہ پروگراموں کی فیس واجب الادا تھی۔ امریکی سفارت خانے کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ وہ محکمہ خارجہ کے اخلاقی اصولوں کی پابندی کرتی ہیں۔ گلفوئل نے خود ان خبروں پر براہ راست کوئی بیان نہیں دیا۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ صرف الزامات کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہونا چاہیے اور پہلے حقائق سامنے آنے چاہئیں۔ دوسری طرف کانگریس کی خارجہ امور کمیٹیوں کے ڈیموکریٹ رہنماؤں نے وزیر خارجہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
گلفوئل سابق ٹی وی میزبان ہیں اور صدر کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی سابق منگیتر رہ چکی ہیں۔
