واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اعلان کیا کہ اسٹیفن ملر پیر نو نومبر سے وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف بن جائیں گے۔ وہ سوزی وائلز کی جگہ لیں گے۔ یہ اعلان وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کانگریس پر گرفت ختم ہونے کے تین دن بعد آیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا۔ انہوں نے ملر کو اپنے قابل اعتماد مشیروں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ وائلز نے شاندار کام کیا ہے اور اب وہ ٹرمپ کی سیاسی ٹیم میں کام کریں گی۔ وائلز امریکہ کی پہلی خاتون چیف آف اسٹاف تھیں۔ انہوں نے جمعے کو بیان میں کہا کہ یہ ان کا آخری دن ہے۔
ملر کی عمر اکتالیس سال ہے۔ وہ جنوری دو ہزار پچیس سے نائب چیف آف اسٹاف اور داخلی سلامتی کے مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہیں انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کا مرکزی معمار سمجھا جاتا ہے۔ ان کا اثر امیگریشن سے آگے ملکی پالیسی کے کئی شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ صدر کی ٹیم میں پہلے دن سے خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز رہا ہے۔
منگل کے انتخابات میں ووٹروں نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول ڈیموکریٹس کو دے دیا۔ اس بڑی شکست کے بعد پارٹی کے اندر حکمت عملی پر کھلی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنی ٹیم میں چند تبدیلیاں کریں گے۔ جمعے کی سہ پہر تک پہلی تبدیلی سامنے آ گئی۔
ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے کہا کہ اس انتخاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی شکست سے کچھ نہیں سیکھا۔ صدر کے حامی اس کے برعکس دلیل دیتے ہیں کہ یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
چیف آف اسٹاف صدر تک پہنچنے والی فائلوں اور لوگوں کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اب یہ عہدہ ان پالیسیوں کے مضبوط ترین حامیوں میں سے ایک کے پاس ہوگا جن پر ووٹروں نے ابھی فیصلہ سنایا ہے۔ جنوری میں نئی کانگریس آئے گی تو اخراجات، نگرانی اور امیگریشن پر وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
ملر پیر کو عہدہ سنبھالیں گے۔ اتوار کو نشر ہونے والا انٹرویو شاید یہ واضح کرے کہ مزید سینئر اہلکار بھی جاتے ہیں یا نہیں۔ نئی کانگریس تین جنوری دو ہزار ستائیس کو حلف اٹھائے گی۔
