اسپین نے اردا ٹرین حادثے کے 69 ہلاک شدگان میں سے 66 کی شناخت کر لی، جن میں چار امریکی بھی شامل

ریلوے ٹریک پر دو تیز رفتار ٹرینوں کی تصویر

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

میڈرڈ — اسپین کے حکام نے گزشتہ ہفتے اردا کے قریب تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں ہلاک ہونے والے 69 افراد میں سے 66 کی شناخت کر لی ہے۔ یہ معلومات 2 نومبر کو کاستیا لا مانچا کی ہائی کورٹ نے جاری کیں اور سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیں۔

شناخت شدہ 66 افراد میں 54 اسپینی شہری اور 12 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ غیر ملکی ہلاک شدگان میں چار امریکی اور ارجنٹینا، کینیڈا، چیک جمہوریہ، فرانس، جاپان، میکسیکو، پرتگال اور تیونس کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ حکام نے کہا کہ جن تین افراد کی شناخت ابھی نہیں ہوئی، ان کے بارے میں بھی خیال ہے کہ وہ غیر ملکی ہیں۔ اتوار کو شناخت شدہ افراد کی تعداد 56 تھی، اس لیے یہ ایک نئی پیش رفت ہے۔

فرانزک ٹیموں نے 53 افراد کی شناخت انگلیوں کے نشانات سے اور 13 کی ڈی این اے جانچ سے کی۔ اس کام میں تولیدو اور سیوداد ریال کے فرانزک ادارے، قومی زہریات انسٹیٹیوٹ اور سول گارڈ کی کرمنلسٹکس سروس شامل ہیں۔ حکام نے کہا کہ 60 شناخت شدہ افراد کے خاندانوں کو اطلاع دی جا چکی ہے اور 47 لاشیں لواحقین کے حوالے کی جا چکی ہیں۔

حکام کے مطابق تین لاپتا افراد کی رپورٹیں اب بھی فعال ہیں، جن میں دو آسٹریلوی اور ایک جاپانی شہری شامل ہے۔ انتظار کرنے والے خاندانوں کے لیے شناخت کا انحصار جزوی طور پر اس پر ہے کہ لواحقین اسپین آئیں یا ڈی این اے نمونے بھیجیں۔

یہ حادثہ بدھ 28 اکتوبر کو میڈرڈ سے تقریبا 130 کلومیٹر جنوب میں اردا کے قریب پیش آیا۔ سرکاری کمپنی رینفے کی ایک ٹرین میڈرڈ سے سیویل جانے والی تیز رفتار لائن پر کھڑی ایریو ٹرین کے پیچھے سے ٹکرا گئی۔ دونوں ٹرینوں میں 540 سے زیادہ لوگ سوار تھے۔ یہ 2013 کے بعد اسپین کا سب سے بڑا ٹرین حادثہ ہے۔ اسپین نے اس کے بعد تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا تھا۔

تفتیش کار تصادم سے پہلے لیے گئے فیصلوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوئنتے نے کہا کہ میڈرڈ کے کنٹرول مرکز کو تصادم سے 17 منٹ پہلے دونوں ٹرینیں نظر آ رہی تھیں، پھر بھی چلتی ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔ ابتدائی اندازے کے مطابق ٹکرانے کے وقت اس کی رفتار تقریبا 100 سے 125 میل فی گھنٹہ تھی۔

پوئنتے نے زیادہ تر ذمہ داری ایک ٹریفک کنٹرولر کے غلط فیصلے پر ڈالی ہے۔ ریلوے یونینوں نے اس بیان سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اصل مسئلہ کنٹرولرز کی کمی اور خراب کام کے حالات ہیں۔ ایک جج اور آزاد تفتیش کار کنٹرول کے فیصلوں اور حفاظتی نظام کی ناکامی کی جانچ کر رہے ہیں۔ وجہ پر کوئی حتمی رپورٹ ابھی جاری نہیں ہوئی۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں