کییف — یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیف کے ایک گاؤں کے پارک پر پیر کو روسی ڈرون حملے میں تین بچوں سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے، رائٹرز نے علاقائی گورنر اولہ سینیہوبوف کے حوالے سے خبر دی ہے۔
سینیہوبوف نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ خارکیف شہر کے جنوب مغرب میں ہونے والے اس حملے میں 15 افراد زخمی بھی ہوئے۔ یوکرین کے وزیر داخلہ ایوان ویہیوسکی نے کہا کہ ڈرون نے نووا وودولاہا نامی بستی کے اس پارک کو نشانہ بنایا جہاں خاندان بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، اور انہوں نے ایک بچے کی لاش بچہ گاڑی میں دکھانے والی دھندلی تصویر بھی شیئر کی۔ آن لائن سامنے آنے والی دیگر تصاویر میں پارک کے قریب تباہ شدہ عمارت کے گرد امدادی کارکن کام کرتے نظر آئے، اور یوکرینی رپورٹوں کے مطابق پارک کے قریب ایک کیفے کو بھی نقصان پہنچا۔
صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک بچی بھی شامل ہے جس کی عمر ایک سال سے کچھ زیادہ تھی اور جو بچہ گاڑی میں ماری گئی، اس کی والدہ اسپتال میں دم توڑ گئیں، جبکہ ہلاک ہونے والی ایک اور بچی کی عمر 11 سال تھی۔ یوکرینی تفتیش کاروں نے ابتدائی نتائج کی بنیاد پر کہا کہ حملے میں گیران-3 ڈرون استعمال ہوا، اور خارکیف ریجنل پراسیکیوٹر کے دفتر نے اموات کا سبب بننے والے جنگی جرم کی ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ تفتیشی نتائج یوکرینی حکام کا موقف ہیں اور کسی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ یوکرین میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ نیو یارک پوسٹ نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ ستمبر میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 85 فیصد بڑھ گئی، اور صرف کییف میں ستمبر کے 30 دنوں میں سے 22 دن شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔ زرک نیوز نے اس رپورٹ میں ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
حملے کا سفارتی پس منظر بھی کشیدہ ہے۔ پیر کی رپورٹوں میں کہا گیا کہ روس نے رات بھر کییف اور اس کے گرد و نواح کی طرف بیلسٹک میزائل بھی داغے، جبکہ امریکا نے نئی پابندیوں کے قانون کی اہم شقوں کو نافذ ہونے سے پہلے موخر کر دیا، جسے انتظامیہ مذاکرات کے لیے گنجائش برقرار رکھنے کا اقدام قرار دیتی ہے۔ زیلنسکی بارہا کہہ چکے ہیں کہ شہریوں کو ڈرون اور میزائل حملوں سے بچانے کے لیے یوکرین کو مزید فضائی دفاع درکار ہے۔
اس حملے کی اہمیت یہ ہے کہ دن کے وقت خاندانوں سے بھرے گاؤں کے پارک پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خارکیف کے سرحدی علاقے کی آبادیاں براہ راست زمینی لڑائی سے دور ہونے کے باوجود مسلسل خطرے میں ہیں۔ روس سے متصل یہ علاقہ پوری جنگ کے دوران بار بار ڈرون، میزائل اور بم حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔
آئندہ کیا ہوگا: امدادی ادارے پیر کو جائے وقوعہ پر کام کرتے رہے، زخمیوں کو خارکیف کے اسپتالوں میں منتقل کیا جاتا رہا اور حکام نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہاں نقل کردہ رپورٹوں میں اس مخصوص حملے پر روس کا کوئی ردعمل شامل نہیں تھا۔
