شہباز شریف کی ہتک عزت کیس میں عمران خان سے جیل میں ملاقات کی وکیل کی درخواست پر عدالت نے دلائل طلب کر لیے

Zark News illustration for a story on Imran Khan's court cases in Pakistan

Zark News illustration

لاہور — پاکستان کی ایک سیشن عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف کے وکیل سے اس درخواست پر دلائل طلب کر لیے ہیں جو قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل نے دائر کی تھی. درخواست میں شہباز شریف کی جانب سے دائر ہتک عزت کے مقدمے کے سلسلے میں عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت مانگی گئی ہے. یہ بات اخبار ڈان نے بتائی، جس کی رپورٹ اتوار کو خبر رساں ادارے اے این آئی نے جاری کی.

ڈان کے مطابق عمران خان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وہ اس مقدمے کے بارے میں اپنے موکل سے ہدایات لینے اور دستاویزات پر ان کے دستخط کروانے کے لیے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ان سے ملنا چاہتے ہیں، اور جیل حکام نے انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی. عدالت نے معاملے کی سماعت اکتیس اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے، جب شہباز شریف کے فریق سے دلائل متوقع ہیں.

اصل مقدمہ دو ہزار سترہ کا ہے. شہباز شریف نے پاناما پیپرز اسکینڈل سے جڑے الزامات پر عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کیا تھا اور دس ارب روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا. پاکستان میں پاناما پیپرز تنازع کا مرکز سابق وزیر اعظم نواز شریف تھے، جو شہباز شریف کے بھائی ہیں، اور دو ہزار سولہ میں اس انکشاف کے بعد عدالتوں نے انہیں نااہل قرار دیا تھا، جب ان کے خاندان کی آف شور جائیدادوں پر سوالات اٹھے تھے.

یہ مقدمہ برسوں سے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے. ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان اب تک کارروائی میں شہباز شریف کی حمایت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں.

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان تین سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف مقدمات کا ایک سلسلہ جاری ہے، جنہیں وہ اور ان کی جماعت سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مقصد انہیں سیاست سے باہر رکھنا ہے، جبکہ حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے. وکیلوں، اہل خانہ اور جماعتی رہنماؤں کی عمران خان تک رسائی خود ان کارروائیوں کے سب سے متنازع مسائل میں سے ایک بن چکی ہے اور ملاقات کی رسائی پر درخواستیں بار بار عدالتوں تک پہنچی ہیں.

اس ہفتے کی یہ درخواست اس توہین عدالت کی کارروائی سے الگ ہے جو پی ٹی آئی نے طبی معائنے کے لیے عمران خان کی اسپتال منتقلی پر شروع کی ہے اور جس کی رپورٹ زرک نیوز نے ہفتے کو شائع کی تھی. یہ درخواست اس نئی عوامی اپیل سے بھی الگ ہے جو بین الاقوامی کرکٹ شخصیات نے ان کے طبی علاج کے لیے کی ہے. ہتک عزت والی درخواست کا سوال نسبتا محدود اور طریقہ کار سے متعلق ہے کہ آیا عمران خان کے اپنے وکیل موجودہ وزیر اعظم کے دائر کردہ مقدمے میں ان کے دفاع کے لیے ان سے بالمشافہ مشاورت کر سکتے ہیں یا نہیں.

اس سماعت کی اہمیت یہ ہے کہ یہ منصفانہ مقدمے کے ایک بنیادی عنصر، یعنی ملزم کی اپنے وکیل کو ہدایات دینے کی صلاحیت، کو پاکستان کے سب سے زیادہ سیاسی نوعیت کے قانونی معاملات میں سے ایک کے اندر پرکھتی ہے. دو ہزار سترہ کا ایک دیوانی مقدمہ بصورت دیگر کم توجہ حاصل کرتا، مگر جب مدعی موجودہ وزیر اعظم ہو اور مدعا علیہ ایک سابق وزیر اعظم اڈیالہ جیل میں قید ہو تو ہر طریقہ کار کا قدم دونوں فریقین کی نظر میں اس بات کا پیمانہ بن جاتا ہے کہ عدالتی نظام مجموعی طور پر عمران خان کے مقدمات کو کس طرح نمٹ رہا ہے.

اگلا مرحلہ اکتیس اکتوبر کی سماعت ہے. اگر درخواست منظور ہوتی ہے تو عمران خان کے وکیل کو ہتک عزت مقدمے کے مقصد کے لیے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی اجازت مل جائے گی، اور اگر مسترد ہوتی ہے تو پی ٹی آئی غالبا اس فیصلے کو اعلی عدالت میں چیلنج کرے گی، جیسا کہ وہ رسائی کے متعلقہ تنازعات میں پہلے کر چکی ہے.

ماخذ: ڈان کی کوریج پر اے این آئی کی رپورٹ، 18 اکتوبر 2026.

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں