واشنگٹن ۔ واشنگٹن پوسٹ نے جمعے کو بتایا کہ امریکی محکمہ دفاع مشرق وسطی میں بحری قوت میں اضافے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کے تحت خطے میں تین طیارہ بردار جنگی گروپ تعینات ہو سکتے ہیں۔ اس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا آپشن ملے گا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے آزاد ذرائع سے تصدیق کی ہے کہ تیسرے طیارہ بردار جنگی گروپ اور میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کی روانگی کا عمل جاری ہے اور نو سے دس ہزار مزید فوجی نومبر کے آخر تک پہنچیں گے۔ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اتوار کو سان ڈیاگو سے روانہ ہوا جبکہ یو ایس ایس میکن آئی لینڈ ایمفیبیئس ریڈی گروپ پیر کو نکلا۔
یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور یو ایس ایس جارج واشنگٹن پہلے ہی مشرق وسطی میں موجود ہیں جبکہ یو ایس ایس باکسر ایمفیبیئس ریڈی گروپ بھی خطے میں ہے۔ جرنل کے مطابق اگر واشنگٹن روزویلٹ کی آمد کے بعد بھی ٹھہرے رہا تو اپریل کے بعد پہلی بار امریکہ کے تین طیارہ بردار جنگی گروپ خطے میں ہوں گے۔
یہ اضافہ اس وقت ہو رہا ہے جب ٹرمپ نے یکم اکتوبر کو شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے انٹرویو میں کہا کہ تین نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری ممکن یا متوقع ہے۔ انہوں نے تہران کی تازہ جنگ بندی تجویز بھی مسترد کر دی جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش شامل تھی۔
رائٹرز کے مطابق ایران کی قیادت نے اتحادی مسلح گروپوں کو نئی امریکی حملوں کی صورت میں مربوط جوابی کارروائی کی تیاری کی ہدایت کی ہے۔ جرنل کے مطابق وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
امریکہ ایران تنازع اٹھائیس فروری کو شروع ہوا تھا اور اس سال کے اوائل میں نازک جنگ بندی ٹوٹ چکی ہے۔ ٹرمپ نے جمعے کو تہران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جب بحرین اور کویت پر مبینہ ایرانی حملوں کی خبریں سامنے آئیں جس سے وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
