اسلام آباد: پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی اور ان کی کابینہ کے کئی ارکان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ بات وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پیر کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتائی۔
طلال چوہدری کے مطابق وزیر اعلی سہیل آفریدی اور کابینہ کے بعض ارکان کو اتوار کے روز احتیاطی حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن ارکان کے خلاف مقدمات ہیں ان پر فرد جرم عائد کر کے ان کا مقدمہ چلایا جائے گا، جبکہ باقی ارکان کو رہا کر دیا جائے گا۔ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ مجموعی طور پر کتنے صوبائی عہدیدار حراست میں لیے گئے ہیں۔
یہ گرفتاریاں وزیر اعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی میں ایک نیا اضافہ ہیں۔ تحریک انصاف ہی اس شمال مغربی صوبے میں حکومت کر رہی تھی۔
ایمرجنسی کا اعلان
صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر کے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت معطل کر دی تھی۔ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبائی انتظامیہ عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکام رہی، اس لیے یہ قدم ضروری تھا۔
تحریک انصاف نے اس وضاحت کو مسترد کر دیا ہے۔ جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کا اصل مقصد عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی طرف مارچ کو روکنا تھا اور یہ اقدام صوبے کے منتخب مینڈیٹ پر حملہ ہے۔
عمران خان 2023 سے جیل میں ہیں۔ ان پر کرپشن سمیت کئی الزامات ہیں جنہیں وہ اور ان کی جماعت سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتے ہیں۔
آئندہ صورت حال
ایمرجنسی انتظام کے تحت صوبے کی انتظامیہ گورنر راج کے ماتحت چلے گی اور گورنر فیصل کریم کنڈی ایک مشاورتی کونسل کی مدد سے انتظامی امور سنبھالیں گے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ ایمرجنسی اور گرفتاریوں کو عدالت اور پارلیمان میں چیلنج کریں گے۔
