جعلی امریکی ڈاک لیبلز کیس: امریکہ کو مطلوب فہیم اکرم لاہور سے گرفتار

شپنگ لیبلز والے پارسلز اور ایک بڑے لیبل پر میگنفائنگ گلاس کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

لاہور — نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے فہیم اکرم کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ ایک ایسی ویب سائٹ چلاتے تھے جس کے ذریعے لاکھوں جعلی امریکی ڈاک لیبلز فروخت کیے گئے۔ ان کی گرفتاری کے لیے امریکی حکام نے ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔

این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ 33 سالہ فہیم اکرم، جن کا تعلق خانیوال سے ہے، دس روزہ آپریشن کے بعد لاہور سے گرفتار کیے گئے۔ ایجنسی کے مطابق آٹھ خصوصی تحقیقاتی ٹیموں نے پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں 35 مقامات پر چھاپے مارے، 47 افراد سے پوچھ گچھ کی، اور 122 کال ریکارڈز، 50 آئی ایم ای آئی ٹریکنگ رپورٹس اور 120 کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے مبینہ طور پر استعمال ہونے والے 16 بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جن میں فہیم اکرم کے بھائی، اہلیہ، بہن اور خالہ کے ناموں پر کھلے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور رقوم کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس نیٹ ورک میں مزید کون شامل تھا۔

امریکی استغاثہ کے مطابق فہیم اکرم لیبلز بینک ڈاٹ کام نامی ایک غیر مجاز ویب سائٹ چلاتے تھے، جو امریکی ڈاک سروس کے جعلی شپنگ لیبلز ایک مقررہ قیمت پر فروخت کرتی تھی، عام طور پر دو ڈالر فی لیبل، قطع نظر اس کے کہ پارسل کا وزن، سائز یا منزل کچھ بھی ہو۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 52 سو سے زائد گاہکوں کو 51 لاکھ سے زیادہ جعلی لیبلز فروخت کیے گئے، جس سے پارسل اصل ڈاک نرخوں کے مقابلے میں نہایت کم قیمت پر بھیجے گئے اور امریکی ڈاک سروس کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا، جو تقریبا 35 ارب روپے بنتا ہے۔

فلوریڈا کے جنوبی ضلع کی وفاقی گرینڈ جیوری نے 28 ستمبر کو فہیم اکرم پر فرد جرم عائد کی تھی، جس میں امریکہ کو دھوکا دینے کی سازش اور جعلی ڈاک ٹکٹیں بنانے اور بیچنے کا ایک الزام، جعلی ڈاک لیبلز بنانے اور بیچنے کے پانچ الزامات اور وائر فراڈ کے چار الزامات شامل ہیں۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں سازش اور جعلی ڈاک کے الزامات میں پانچ سال تک اور وائر فراڈ کے ہر الزام میں 20 سال تک قید ہو سکتی ہے۔ فرد جرم کے ساتھ ہی ڈاک سروس نے عدالت سے حکم حاصل کر کے لیبلز بینک ڈاٹ کام کا ڈومین ضبط کر کے ویب سائٹ بند کر دی تھی۔

الزامات کا اعلان کرتے ہوئے امریکی اٹارنی جیسن اے ریڈنگ کوئنوئنس نے کہا تھا کہ مبینہ اسکیم سادہ مگر بہت بڑی تھی: جعلی ڈاک آن لائن مقررہ اور سستی قیمت پر فروخت کی گئی، فی لیبل محض دو ڈالر، قطع نظر پارسل کے وزن، سائز یا منزل کے۔ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس نے بعد میں فہیم اکرم کی گرفتاری اور سزا کا باعث بننے والی اطلاع پر ایک لاکھ ڈالر تک انعام کا اعلان کیا تھا، جس پر زرک نیوز نے 6 اکتوبر کو رپورٹ شائع کی تھی۔ امریکی کیس کی تفتیش کرنے والے میامی ڈویژن کے انسپیکٹر انچارج بلیڈسمیر روجو کا کہنا تھا کہ ہماری رسائی ہماری سرحدوں سے آگے تک ہے، اور ڈاک سروس کو دھوکا دینے والی بین الاقوامی مجرم تنظیموں کو تلاش کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

آئندہ کیا ہوگا: فہیم اکرم اس وقت این سی سی آئی اے کے مقدمے میں پاکستانی تحویل میں ہیں اور فلوریڈا میں امریکی الزامات بدستور قائم ہیں۔ کسی بھی ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا امریکہ ان کی حوالگی مانگے گا، اور پاکستانی حکام نے ابھی تک عدالت میں پیشی یا ریمانڈ کا اعلان نہیں کیا۔ فرد جرم محض ایک الزام ہے اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک فہیم اکرم کو بے گناہ سمجھا جائے گا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں