ولنیئس — لیتھوانیا نے اتوار کی صبح ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں کے شہریوں کو ایک نامعلوم اڑتی شے کی موجودگی پر تقریبا ایک گھنٹے کے لیے پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی. یہ بات فوج اور قومی بحران انتظامی مرکز نے بتائی، رائٹرز کے مطابق.
مرکز کے مطابق جب تک سرخ فضائی انتباہ نافذ رہا، نیٹو کے فضائی پولیسنگ طیاروں کو علاقے کی طرف بلایا گیا اور ملک کے دوسرے بڑے شہر کاوناس کے قریب واقع کاوناس ہوائی اڈا بند کر دیا گیا. ابتدائی سرکاری بیانات میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی.
اڑتی شے کے ریڈار سے غائب ہونے کے بعد لیتھوانیا کی فوج کے اہلکار ملک کے شمال میں واقع گاؤں یوودزیونیس کے قریب ممکنہ ڈرون کے ملبے کی جانچ کر رہے تھے. مرکز نے فوج کے حوالے سے کہا کہ یہ شے غالبا پولینڈ کی طرف سے داخل ہوئی تھی، اور پولینڈ کی فوج نے اتوار کو کہا کہ وہ اپنی فضائی حدود کی ممکنہ خلاف ورزی کی تصدیق کر رہی ہے.
یہ انتباہ ایک اور سرحد بھی پار کر گیا. شمالی ہمسایہ ملک لٹویا نے اسی دوران لیتھوانیا سے ملحقہ بعض علاقوں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر پیلا فضائی انتباہ جاری کیا اور پھر واپس لے لیا، لٹویا کی فوج کے مطابق.
حکام نے اپنے ابتدائی بیانات میں یہ نہیں بتایا کہ یہ شے کیا تھی، کس کی تھی یا اسے تباہ کیا گیا یا نہیں. بالٹک خطے میں ایسے واقعات اب ایک جانی پہچانی صورت اختیار کر چکے ہیں. رائٹرز کے مطابق حالیہ مہینوں میں یوکرینی ڈرون بار بار نیٹو کی فضائی حدود میں داخل ہوئے ہیں اور کیف کا کہنا ہے کہ روسی سگنل جامنگ کی وجہ سے وہ اپنے راستے سے ہٹ گئے تھے.
لیتھوانیا، لٹویا اور پولینڈ تینوں نیٹو کے رکن ہیں اور ان کی فضائی حدود روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کے راستوں کے قریب واقع ہیں. ایسے واقعات حکومتوں کو چند منٹوں میں فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ شہریوں کو پناہ گاہوں میں بھیجا جائے، ہوائی اڈے بند کیے جائیں اور اتحاد کے طیارے حرکت میں لائے جائیں، جیسا کہ اتوار کو ہوا.
اس معاملے کی اہمیت یہ ہے کہ ہر ایسا واقعہ بیک وقت نیٹو کے فضائی ردعمل کی رفتار اور اس خطرے کو آزماتا ہے کہ یوکرین جنگ کی کوئی بھٹکی ہوئی شے ایک بڑے تصادم کا سبب بن جائے. لیتھوانیا کے حکام ایسے واقعات کو جنگ کے پھیلاؤ کے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں.
اگلا قدم فوج کی اس جانچ پر منحصر ہے جو ممکنہ ملبے کی ہو رہی ہے. جب تک اس کے نتائج سامنے نہیں آتے، اتوار کی اس شے کی اصل نوعیت اور ماخذ غیر مصدقہ رہیں گے اور سرکاری بیانات کو ابتدائی سمجھا جانا چاہیے.

